بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مال نامی کی تعریف


سوال

مال نامی کی تعریف کیا ہے ؟ اور کیا ضرورت سے زائد سامان جس میں تجارت کی نیت نہ ہو وہ مال نامی میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

             مالِ نامی کے معنی ہیں بڑھنے والا مال، خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً۔اس  بڑهنےکی تین صورتیں ہیں ۔1۔تجارت سے بڑهنا۔ 2۔ افزائشِ نسل  سےبڑهنا۔ 3۔خلقی(یعنی پیدائشی) طور پر نامی ہونا جیسے سونا چاندی وغیرہ۔

              ضرورت سےزائدسامان اگرتجارت کےلئےہویاسوناچاندی ہو یانقدی ہوتویہ مال نامی میں شمارہوگا،اوراگرتجارت کےلئے نہ ہو،سوناچاندی بھی نہ ہواورنقدی بھی نہ ہوتویہ مال نامی میں شمار نہیں ہوگا۔

 

ومنها كون النصاب ناميا حقيقة بالتوالد والتناسل والتجارة أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو في يد نائبه وينقسم كل واحد منهما إلى قسمين خلقي وفعلي هكذا في التبيين۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،ج:1،ص:235)


فتویٰ نمبر : 9300/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور