بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زکاۃ کی رقم مدرسہ کی فیس میں دینا
سوال
اگرایک مدرسہ میں طلباء پر فیس مقرر ہو،اور اس میں چند طلباء ایسے ہوں جو اس ماہانہ فیس کو ادا نہیں کرسکتے تو کیا ان کی ماہانہ فیس کو پورا کرنے کے لیے مہتمم یا ان طلباء کے والدین طلباء کی طرف سے وکیل بن کر لوگوں سے زکاۃ کی رقم وصول کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں مستحقین کو مالک بنانا ضروری ہے چنانچہ جہاں کہیں تملیک کی شرط مفقود ہوگی وہاں زکوۃ کی ادائیگی درست نہ ہوگی ۔ البتہ اگر مستحق زکوۃ کو اس کا مالک بنایا جائے اور وہ برضا ورغبت پوری رقم یا اس رقم کا کچھ حصہ فیس میں دینا چاہےتو شرعاً اس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں جن بچوں کے والدین ماہانہ فیس ادا نہیں کرپاتےاور وہ زکاۃ کے مستحق ہوں تو انہیں زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم دینا جائز ہوگا جسے وصول کرنے کے بعد فیس ادا کردیں یا جیسے چاہیں اس کو استعمال کریں ۔تاہم براہِ راست مدرسہ کے طلباء کی طرف سے یہ زکاۃ کی رقم فیس کی مد میں دینا درست نہیں، کیوں کہ اس میں مستحق کو تملیک (مالک بنانا) نہیں پایا جاتا تاہم یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ مستحق شخص زکاۃ وصول کرنے اور اس سے فیس ادا کرنے کے لیے کسی کو اپنا وکیل نامزد کردےاور وکیل زکات وصول کرکے مستحق شخص کی طرف سے فیس ادا کردے۔
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الزكوة ، الباب السابع في المصارف ، ج: 1 ص: 250)
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء۔ وقال ابن عابدين: ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الزكوة ، باب المصارف ، ج: 3 ص: 293)