بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
مقروض کو ز کوۃ دینا
سوال
ایک شخص پر تقریباً 5 لاکھ روپے قرض ہے۔ وہ مزدوری کرکے ماہانہ 8 ہزارروپے کماتا ہے۔ اس کی ایک بیٹی ہے۔ اس کی بیوی کے پاس تقریباً آدھا تولہ سونے کا زیور ہے جو کہ اس کو اس کی والدہ نے دیا تھا۔ اس کے پاس ذاتی سونا چاندی وغیرہ نہیں ہے۔ کیا اس کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں ؟
جواب
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جس مسلمان ،غیرسیدشخص کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود نہ ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں اگراس شخص کے پاس بقدر نصاب مالیت نہ ہو ،اور مقروض بھی ہو تو اس کو زکوۃ دیناجائز ہے ۔
قال الله تعالی: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۔(التوبة:60)
(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الزکوة،باب المصرف،ج:3،ص:284)