بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

امانت کی رقم کوخلط ملط کرنا


سوال

مدرسہ میں مختلف قسم کے فنڈ ہوتے ہیں مثلا زکوٰۃکے، لنگر کے، مدرسہ کی تعمیر کے، ان تمام فنڈوں کو ایک ہی جگہ میں رکھنا کیسا ہے؟جبکہ استعمال کرنےوالا حساب سے استعمال کرتا ہو۔

جواب

            مدرسہ کے پیسے مہتمم یا منتظم کے ہاتھ میں امانت ہوتے ہیں اور مہتمم چندہ دہندہ گان کا وکیل ہوتا ہے،لہٰذا وکیل کو جس چیزکے لیے وکالت سپرد کی جائے اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں،نیزجس مقصد  کے لیےچندہ کو مختص کیا گیاہو اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنا لازم ہے۔

          صورت مسئولہ میں نوٹوں میں تبدیلی اور ردوبدل کا جواز اس پر موقوف ہے کہ مؤکل (چندہ دہندہ گان)کی طرف سے تبدیلی کی اجازت صراحتاً یا دلالتاً موجود ہو، چونکہ عرف میں کرنسی نوٹ کے ردوبدل کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے منتظم کے لیے مدرسہ کے چندہ کو ایک ہی جگہ رکھنے کی گنجائش ہے۔ 

 

وليس له الخلط بلا إذنهم(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة،ج:2،ص:269)

لا یجوز لاحد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا اذنه او وکالة منه او ولاية عليه، وان فعل کان ضامنا. (شرح المجلة، لسلیم رستم باز،المادة:96، ج:1، ص:61)

ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع ،وكانت دراهم الموكل قائمة ۔ قال ابن عابدین:(ولو تصدق إلخ) أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم الموكل صح. بخلاف ما إذا أنفقها أولا على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع۔(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة،ج ۳،ص ۱۸)


فتویٰ نمبر : 9389/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور