بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
موبائل سے تصویر اور وڈیوز بنانےکا حکم
سوال
موبائل کیمرے سے تصویر یاوڈیوز بنانا شرعاً کیسا ہے؟کچھ لوگ جواز پر یہ دلیل پیش کرتے ہےکہ علماءکرام بھی تصویر اور ویڈیوز بناتے ہے،کیا یہ درست ہے؟
جواب
سکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجيٹل تصویر بھی تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے، لہذااس پر بھی تصویر کا حکم لاگو ہوگا ۔البتہ ضرورت کے پیش نظر قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ یا نوکری وغیرہ کیلئے تصویر کھینچوانے کی گنجائش ہے۔لیکن محض نفسانی خواہشات کے لیے ڈیجیٹل کیمرے سے تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہے،اورویڈیو زبنانے کا بھی یہی حکم ہے۔نیزعلماءکرام کے تصویر اور ویڈیوز بنانے سے اس کے جائز ہونے پر استدلال نہیں کیا جاسکتا،عامی کے لیے دلیل مفتی کا فتویٰ ہوتا ہےنہ کہ اس کا عمل۔
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير صورة الحيوان فإنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها،فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره ۔(البحر الرائق، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها ،ج:2، ص:29)
الضرورات تبيح المحظورات۔(الأشباه والنظائر لابن نجيم ص:72)
إن كان عاميا اتبع فتوى المفتي فيه الأتقى الأعلم۔(شرح عقود رسم المفتي، ص:29)