بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کی جھوٹی خبر دینے پر طلاق کا حکم


سوال

بہنوئی کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے یہ کہنا کہ: اپنی بہن کو لے جاؤ میں نے اسے طلاق دی ہے،  جبکہ اس سے پہلے کوئی مستقل طلاق بیوی کو نہ دی ہو۔ کیا اس طرح جھوٹ بولنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

          کوئی شخص اگر طلاق کی جھوٹی خبر دے تو اس جھوٹی خبر کے دینے سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ تاہم اللہ اور اس کا معاملہ الگ ہے۔اگر واقعی طلاق نہ دی ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔

          لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی  اور بہنوئی سے  جھوٹ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو اس جھوٹی خبر سے اس کی بیوی پرقضاءً طلاق واقع ہوگی یعنی بیوی اگرعدالت میں قاضی کے سامنے خاوند کےاس اقرارکو ثابت کرے تو عدالت اس پر ایک طلا ق کے واقع ہونے کا  فیصلہ کرے گی۔ البتہ اگرمعاملہ عدالت میں نہ جائے تواگرخاوند اپنی بات میں سچا ہو تو دیانۃًکوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

لو أقر بالطلاق كاذباً، أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في الإكراه على التوكيل بالطلاق، ج:4، ص:440) 

لو أراد به الخبر عن الماضي كذبأ لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب في المسائل التي تصح مع الإكراه، ج:4، ص:443)


فتویٰ نمبر : 6513/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور