بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شیر خوار کے دب جانے کی وجہ سےموت کا گمان ہونا


سوال

اگرکوئی بچی پیدائشی دل کی مریضہ ہو اور اس کی ولادت اسی حالت میں ہوئی  ہو  اور یہی مسئلہ اس کی زندگی میں  مسلسل رہا ہو جس  کا  مشاہدہ بار بار والدہ کو ہوتا رہاہو اور پھر اچانک ایک رات بچی کی موت کچھ یوں واقع ہوئی ہو کہ بچی کی منہ میں ماں کا پستان ہو اور اس کی ناک  سے بہت خون نکلا ہوا ہو اور اس کے علاوہ بچی  نے نہ الٹی کی ہو اور نہ بول و براز وغیرہ خارج ہوا ہو  نیز بچی کی والدہ اور والد میں سے کسی نے بھی بچی کو ماں کے نیچے دبتا ہوا نہیں دیکھا  اور بچی کی وفات کے بعد اس کے بدن پر جامنی داغ جا بجا نمودار ہوئے جو اس کی بہن کی وفات کے بعد بھی نمودار ہوئے تھے جو کہ دل کی بیماری ہی سے فوت ہو چکی تھی۔ پوچھنا یہ ہے کہ  اب بچی کی والدہ  جو کہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہے اور اس کے رپورٹ اور علامات اور دیگر بچوں کے اموات کے مشاہدات سے لگتا ہے کہ بچی دل کی بیماری ہی کی وجہ سے فوت ہوئی ہوگی لیکن کبھی ذہن میں خیال آتا ہے کہ کہیں بچی میرے نیچے دب جانے کی وجہ سے فوت نہ ہوئی ہو اور یہ خیال بچی کی والدہ کو ہر قسم کی تلافی کے لیے تیار کیے ہوئے ہے ۔ کیا مذکورہ صورتحال میں اس عورت پر کفارہ کے روزے یا دیت وغیرہ لازم ہوں گے یا نہیں؟ 

جواب

          واضح رہے کہ احکامِ شریعت کا مدار یقین محکم پر ہے محض وسوسہ اور خیالات سے شریعت کے احکام کا ثبوت نہیں ہوتا ۔

           صورت مسٔولہ  میں بیان کردہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ بچی کی موت کی وجہ اس کا ماں کے نیچے دب کر مرنا نہیں ، اس لیے ایسی صورت میں ماں پر کوئی کفارہ لازم نہیں کیونکہ محض خیالات اور وساوس کی وجہ سے کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

 

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم يتكلموا، أو يعملوا به. (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب تجاوز الله عن حديث النفس...، ج:1، ص:116)


فتویٰ نمبر : 5149/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور