بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زکوۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے خود کو شیعہ ظاہر کرنا
سوال
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اہل تشیع زکوٰۃ کے منکر ہیں(یعنی وہ زکوٰۃ نہیں دیتے)اور بینکوں میں بھی اگر کوئی اپنے آ پ کو اہل تشیع میں سے ظاہر کرے(یعنی فارم پر لکھے)تو ان سے زکوٰۃ نہیں کاٹی جاتی،تو کیا اس طرح کرنا جائزہے؟اور منکرین زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
جواب
علمائے امت کا اس بات پراتفاق ہےکہ اہل تشیع کے تمام فِرَق کافرنہیں،بلکہ ان میں سے بعض کفریہ عقائد رکھتے ہیں اوربعض صرف فاسق اور مبتدع شمار ہوتے ہیں۔لہٰذا جب کوئی مسلمان زکوٰۃ کا منکر نہ ہواور بینک والوں کے سامنے صرف اس لیے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرنا چاہتا ہےکہ بینک والے اس کےمال سے زکوٰۃ نہ کاٹیں تو اس سے یہ شخص اگرچہ گناہ گار ہوتا ہےاور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے،لیکن اس کو کافر نہیں کہہ سکتے۔البتہ زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کرنے والاکافر ہوجاتاہے۔
وان كان يفضل عليا عليهما،فهو مبتدع۔۔۔اتفق الائمة علي تضليل أهل البدع أجمع،وتخطئتهم۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الجهاد،باب المرتد،مطلب في سب الشيخين،ج:6،ص:377)
وهي فريضة محكمة لا يسع تركها،ويكفر جاحدها،ثبتت فرضيتها بالكتاب۔(الاختيار لتعليل المختار،كتاب الزكوة،ج:1،ص:99)