بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خیر البشر نام رکھنے کا شرعی حکم


سوال

 کیا خیر البشر نام رکھنا شرعا درست ہے؟

جواب

            والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں، نام رکھنے میں معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اچھے اور بامعنی نام کا اثراچھا ہوتا ہے اور برے نام کا اثر برا ہوتا ہے۔

            "خیر البشر" کے معنی ہیں: انسانوں میں سب سے زیادہ اچھا یا سب سے زیادہ بہتر ومفید، اس اعتبار سے اس لفظ کا معنی تو درست ہے، البتہ اس نام میں ایک بڑا دعوی پایا جاتا ہے، حدیث شریف میں مذکور ہے کہ "حضرت زینب بنت سلمہ رضی اللہ عنھا  بیان فرماتی ہے کہ اس کا نام برہ رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے آپ کو معصوم قرار نہ دو، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں  سے کون نیکوکار ہے، اس کا نام زینب رکھو" خیرالبشر نام میں سب انسانوں سے زیادہ بہتر، اچھا، باصلاحیت ہونے کا دعوی پایا جارہا ہے، لہذا ایسا نام رکھنا مناسب نہیں ہے ۔

 

وعن زينب بنت أبي سلمة - رضي الله عنها - قالت: سميت برة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تزكوا أنفسكم، الله أعلم بأهل البر منكم، سموها زينب".

(وعن زينب بنت أبي سلمة) : وهي ربيبة النبي - صلى الله عليه وسلم - (قالت: سميت) : بصيغة المجهول، أي: سماني أهلي (برة) : بفتح الموحدة وراء مشددة مبالغة بارة، إما على الوصفية أو المصدرية (فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا تزكوا أنفسكم) أي: كما قال تعالى ( «الله أعلم بأهل البر منكم» ) : قال ابن الملك: تزكية الرجل نفسه ثناؤه عليها، والبر اسم لكل فعل مرضي (سموها زينب). (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، باب الأسامي، ج:7، ص؛2229)

خیر : اسم تفضیل، مخفف اخیر، ومؤنثة خیر. یقال : فلانة خیرة الناس و خیرهم ای اکثرهم خیرا. (المنجد، المادة: خیر، ص:201)

البشر : الإنسان (الواحد والجمع والمذکر والمؤنث فيه سواء) وقد يثنى، و يجمع علي أبشار ((المنجد، المادة: بشر، ص: 94)


فتویٰ نمبر : 5151/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور