بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شہوت میں کسی عورت کے ساتھ مصافحہ کرنا
سوال
اگر کسی آدمی کو کسی عورت کے لئے پہلے سے شہوت ہو اور دوران شہوت اسی عورت سے مجبورا مصافحہ ہوجائے یا کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت اس کے ہاتھ سے ہاتھ لگ جائے اور اس وقت شہوت میں کوئی اضافہ نہ آئے یا کم ہوجائے تو اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یانہیں نیز اس عورت کی بیٹی سےاس شخص کا نکاح شرعاجائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص شہوت کی غیر موجودگی میں کسی قابل شہوت عورت کو چھولے اور اس کے چھونے کے وقت وہ عورت کی حرارت کو یقینی طور پر محسوس کرلے اور اس دوران اس کو شہوت پیدا ہوجائے تو اس سے حرمت مصاہرت ثا بت ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص پہلے سے شہوت میں ہو اور وہ کسی قابل شہوت عورت کو اس طور پر چھولے کہ اس کی حرارت محسوس کرے تو اس دوران محض چھونے سے اس وقت تک حرمت ثابت نہیں ہوگی جب تک وہ یقینی طور پر اپنی شہوت میں زیادتی محسوس نہ کرے ۔
صورت مسؤلہ میں اگر واقعی آدمی کو اس عورت کے لیے پہلے سے شہوت ہو اور دوران شہوت اسی عورت کے ساتھ مجبورا مصافحہ ہوجائے یا اس کے ہاتھ سے ہاتھ لگ جائے لیکن اس کی شہوت میں اضافہ نہ ہوجائے یا کم ہوجائے تو اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی،لہذا اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔
فمن انتشرت آلته فطلب امرأته وأولجها بين فخذي ابنتها لا تحرم عليه أمها ما لم تزدد انتشارا، كذا في التبيين.(الفتاوي الهندية،كتاب النكاح،الباب الثاني في المحرمات ،القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج:1،ص275)
وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه۔(رد المحتارعلی الدر المختار،كتاب النكاح،باب المحرمات،ج:4،ص:108)