بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر لفظ طلاق کہنا


سوال

دو دوست جب ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں یا چائے پیتے ہیں تو دونوں پشتو میں ان الفاظ سے طلاق لیتےہیں (طلاق مہ دی کہ دپیسے ر اثخہ ور کے) مذکورہ الفاظ دونوں کہتے ہیں پھر ان میں سے ایک پیسے دیتا ہے تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے؟

جواب

                 طلاق واقع ہونےکے لیے یہ ضروری ہے کہ شوہر طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرے، اگر  بیوی کی طرف نسبت نہ کی ہو نہ صراحۃ ،نہ اشارۃاورنہ دلالۃ تو شرعا طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

              صورت مسؤلہ میں  پشتو زبان میں ''طلاق مہ دی کہ د پیسے راثخہ ورکے''(میری طلاق ہے اگر آپ نے مجھ سے پیسے دے دیئے)کہنے کے اندر  بیوی کی طرف نہ صراحۃ طلاق کی نسبت ہےاور نہ عرف میں اس سے بیوی کو طلاق دینا مقصود ہوتا ہے،اس لیے ان الفاظ  کے کہنےکے بعدپیسے ادا کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها۔(ردالمحتار،كتاب الطلاق،ج:3،ص:250)

ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية ۔(الاشباه والنظائر،ج:1،ص:185)


فتویٰ نمبر : 6570/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور