بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قسط وار ادائیگی کے عوض عمرہ کی سہولت دینا
سوال
آج کل ٹریول ایجنسیوں والے لوگوں کو قسط وار ادھار پر عمرہ کی سہولت دیتا ہے، کیا كسی شخص کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا کرعمرہ کی سعادت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے زندگی میں ایک مرتبہ عمره اداکرنا سنت ہے اس ليے استطاعت نہ ہونے کی صورت میں قرض لے کر عمرہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اگر بعد میں قرض کی ادائیگی کی استطاعت ہو تو عمرہ کے لیے قرض لینے كی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ میں مقررہ میعاد میں قسطیں ختم کرنے کی استطاعت ہوتوٹریول ایجنسی کی اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر عمرہ کرنا جائز ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ مجموعی رقم اور قسطوں کی ادائیگی کی تاریخیں پہلے سے طے ہوں اور قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافہ کی شرط نہ لگائی جائے۔
(والعمرة)في العمر (مرة سنة مؤكدة)۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الحج،ج:3،ص:475)
وقالوا:لولم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذالك۔۔۔ وهذا يرد على القول الأول أيضا إن كان المراد بقوله"ولو غير قادر" على وفائه أن يعلم أنه ليس له جهة وفاء أصلا،أما لوعلم أنه غير قادر في الحال وغلب على ظنه أنه لو إجتهد قدر على الوفاء فلا يرد۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحج،ج:3،ص:455)