بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عقیقہ کے جانور کی عمر


سوال

بچے کا عقیقہ کرنے کے لیے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہیے ؟

جواب

              عقیقہ کے  جانوروں میں ان شرائط کا ہونا ضرروی ہے جو شرائط قربانی کے جانوروں کے لیے ہیں، یعنی جن جانوروں کی قربانی درست ہے ان سے عقیقہ کرنابھی درست ہے۔ اور قربانی کےجانور وں کی عمریں مندرجہ ذیل ہیں:

(1)بکرا،بکری ،دنبہ اوربھیڑ ایک سال کی عمرکاہو۔(2)گائے، بیل، بھینس دوسال کی ہو۔(3 )اونٹ پانچ سال کاہو،البتہ اگر بھیڑ اور دنبہ ایک سال سے کم اور چھ مہینے سے زائد کا ہو مگر اتنا فربہ ہو کہ ایک سال کا معلوم ہوتا ہو تو اس سے عقیقہ درست ہے۔

 

وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا ۔( ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الحظروالاباحة،ج:6،ص:336)


فتویٰ نمبر : 9283/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور