بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

محمد احرام نام رکھنا


سوال

محمد احرام نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

           والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں،نام رکھنے میں معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے کیونکہ اچھے اور بامعنی نام کا اثر اچھا ہوتا ہے اور برے نام کا اثر برا۔چنانچہ اگر ایسا نام رکھا گیا ہو جو معنی کے لحاظ سے  اچھا نہ ہو تو اس کو تبدیل کرنا چاہیے۔

          لفظ ''محمد احرام" اس کے معنی ہیں ''بدن ڈھانکنے کے لیے بے سلے کپڑے استعمال کرنا،حرم میں آنا''یہ نام معنی کے اعتبار سے بہتر  نہیں ہے اس  لیے یہ نام نہیں رکھنا چاہیے اس کے بجائے کوئی اور اچھا با معنی نام رکھنے کا اہتمام  کرنا چاہیے۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم۔ ( سنن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء ج2،ص320)

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد،ج5،ص362)

احرام:بدن ڈھانکنے کے لیے بے سلے کپڑے استعمال کرنا،حرم میں آنا۔ (فيروز اللغات اردو جديد:ص:51)


فتویٰ نمبر : 5172/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور