بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نصاب كے بقدر مال موجود نہ ہونے کی صورت میں زکوٰۃ لینا


سوال

زید شادی شدہ اور نوکر پیشہ ہے اس کی کل تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے۔ایک دکان بھی چلاتا ہےجو خود اس کی مالیت کا نہیں بلکہ بھائی نے روپے دے کر سامان ڈالا ہے زید دکان سے صرف روزانہ پانچ چھ سو روپے لیتا ہے اسی طرح زید کی زمین جو اب تک بھائیوں کے ساتھ مشترک ہے جس میں زید کے ڈھائی کنال بنتے ہیں جس میں فصل بھی مشترک ہوتا ہے اور بعد میں اس فصل کو تقسیم کیا جاتا ہے جس سے زید کا تھوڑا گزارہ ہوتا ہے۔باقی اخراجات میں زید اکثر محتاج ہوتا ہے۔ تو کیا زید اس حالت میں کسی سے زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

              شرعی نقطہ نظر سے زکوٰۃ  لینے کا مستحق شخص وہ ہے جو صاحب نصاب نہ ہو،لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر زید کی  کل آمدنی اس کے اخراجات  سے کم ہے اور اس کے  پاس نصاب کے بقدر مال موجود نہیں ہےتو  وہ  صاحب نصاب نہیں  ہے اس لیے اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔

 

ولا يجوز دفع الزكوة إلى من يملك نصابا۔۔۔فاضلا عن حاجته في جميع السنة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:189)

ولو كان له ضيعة قيمتها آلاف،ولا يحصل منه ما يكفي له،ولعياله،اختلف فيه،قال ابن مقاتل: يجوز صرف الزكوة إليه(الفتاوى البزازية على هامش الهندية،كتاب الزكوة،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:189)

 


فتویٰ نمبر : 9281/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور