بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بلا شرعی وجہ کسی مسلمان کےلیے بدد عا کرنا
سوال
آج کل یہ رواج پڑا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعدلوگ آتے ہیں اور پیسوں(تین،چار ہزار)،کپڑوں اورسوناچاندی وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم بخوشی کچھ رقم وغیرہ دیتے ہیں مگر وہ زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ دینے کی صورت میں بد دعا دیتے ہیں۔کیا ایسی صورت میں ان لوگوں کی بد دعا قبول ہوگی؟
جواب
کسی مسلمان کے لیے بددعا کرنا جائز نہیں ہے۔حضورﷺ کا ارشاد ہے: ہمیشہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے،جبکہ وہ گناہ یا رشتہ کاٹنے کی دعا نہ کرے۔اس حدیثِ پاک کے تحت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ ومنه الدعاء على من لم يظلمه مطلقا ‘‘ترجمہ:(جو دعائیں قبول نہیں ہوتیں)ان میں سے ایک اس شخص کے لیے بد دعا کرنا ہے کہ جس نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا۔نیز جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سےسوال کرناجائز نہیں،اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیےبھی لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق نہ تو کسی سے خوشی کے موقع پر سوال جائز ہےاور نہ ہی بددعا کرنے کی اجازت ہےاور اللہ تعالیٰ کے رحم سے امید ہےکہ وہ ایسی بد دعا قبول نہیں فرمائیں گے۔
لایزال یستجاب للعبد ما لم يدع باثم او قطيعة رحم (الصحیح لمسلم،کتاب الذکر والدعاء،باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم یعجل،ج:2،ص:352)
ومنه الدعاء على من لم يظلمه مطلقا (مرقاۃ المفاتیح ،جلد4،ص:1525)
ولا یحل ان یسال شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل او بالقوۃکالصحیح المکتسب ویاثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولو سال للکسوۃ او لاشتغالہ عن الکسب بالجھاد او طلب العلم جاز لومحتاجا (الدر المختار مع رد المحتار ،ج:2،ص:354تا355)