بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ناپاك چيز كو چکھ کر تھوکنے کا حکم
سوال
اگر کوئی شخص بغیر کسی مجبوری کے ناپا ک چیز چکھ لےاور پھر تھوک لے، حلق تک نہ لے کر جائے تو یہ شخص گنہگار ہو گا یا نہیں؟اور ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
جواب
شریعت مطہرہ میں پاکیزہ اور حلال چیزیں کھانے کی ترغیب اور ناپاک و حرام چیزیں کھانے کی مذمت بیان کی گئی ہے اورناپاک اشیاء کوبلاکسی شرعی عذر کے قصداً کھانے کوممنوع قرار دیا ہے ۔
لہذا اگر کوئی شخص بلا کسی عذر کے ناپاک چیز کو چکھنے کے بعد تھوک لےتو شرعاًاس فعل کاارتکاب اگرچہ موجبِ عقاب نہیں ہے تاہم ناپاک چیز کو منہ میں ڈالنا ایک مکروہ فعل ہےجس سے احتراز ضروری ہے ۔
قال الله تبارك وتعالى:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۔(سورة البقرة،آية:172)
ولو ملأ فاه خمرا، ثم مجه، ولم يدخل جوفه منها شيء، فلا حد عليه؛ لأنه ذاق الخمر، وما شرب.(المبسوط للسرخسي،كتاب الأشربة،ج:24،ص:19)
قال - رحمه الله -: (المكروه إلى الحرام أقرب) ونص محمد أن كل مكروه حرام، وإنما لم يطلق عليه لفظ الحرام لأنه لم يجد فيه نصا قطعيا فكان نسبة المكروه إلى الحرام عند محمد كنسبة الواجب إلى الفرض وعن الإمام وأبي يوسف أنه إلى الحرام أقرب وهذا الحد للمكروه كراهة تحريم، وأما المكروه كراهة تنزيه فإلى الحلال أقرب هذا خلاصة ما ذكروه في الكتب المعتبرة۔( البحر الرائق،كتاب الكراهية،ج:8،ص:205)