بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
"کلما "کی طلاق کا حکم
سوال
ایک شخص آن لائن قرآن اکیڈمی میں بطور ٹیچر خدمات سرانجام دیتا ہے اس کا اکیڈمی جوائن کرتے وقت اکیڈمی کے ڈائریکٹر نے اس سے ایک عہد نامے پر دستخط لیا تھا ،عہد نامے کا مضمون یوں ہےکہ" میں کلما کی قسم اور طلاق مغلظ اٹھاتے ہوئے حلفا کہتا ہوں کہ اکیڈمی کی مینیجمنٹ جن طلبہ کو پڑھانے کی ڈیوٹی مجھے یا اکیڈمی کے دوسرے اساتذہ کو دے گی ان کو اکیڈمی کے مینیجمنٹ کی اجازت کے بغیر جان بوجھ کر چوری کے ارادے سے کسی دوسرے شخص یا ادارے کو نہیں دوں گا اور نہ ہی اکیڈمی سے علیحدہ ہوکر ان طلبہ بھگا لے جا کر ذاتی طور پر پڑھانے کی کوشش کروں گا" تو کیا ایک ٹیچر مذکورہ اکیڈمی کو چھوڑ دے اور جن طلبہ کو وہ آن لائن پڑھاتا تھا وہ طلبہ اس سے ذاتی طور پر خود رابطہ کرلے اور اس سے پڑھنے کی خواہش ظاہر کرے تو کیا وہ ٹیچر طلاق کلما کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ لفظ" کلما" شرط کے لیے استعمال ہوتا ہےاور یہ اس وقت عمل کرتا ہے جب اس کے ساتھ شرط وجزاء دونوں ذکر کی جائیں جیسے کوئی شخص کہے"کلما تزوجت فھی طالق" یعنی جب جب میں نکاح کروں گا تو اس کو طلاق ، اس صورت میں یہ شخص جب بھی نکاح کرے گا تو اس عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی، اوراگر اس کے ساتھ شرط و جزاء کا ذکر نہ ہو تو اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،عوام میں جو "کلما کی قسم" یا "کلما کی طلاق" رائج ہے(یعنی پورے الفاظ قسم یا الفاظ طلاق کی ادائیگی کے بغیر صرف کلما کا لفظ ذکر کرنا) اس پر قسم یا طلاق کی شرعی احکام مرتب نہیں ہوتے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں عہد نامے کا جو مضمون ہےاس پر شرعا خلاف ورزی کی صورت میں طلاق کے احکام مرتب نہیں ہونگے،تاہم عہد نامے کی مخا لفت کرنے سے وہ شخص وعدہ خلافی کے زمرے میں آتا ہے ۔
وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام۔(ردالمحتارعلى الدرالمختاركتاب الطلاق،باب الصريح،ج:3،ص:427)