بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بینک کے ملازم کی رقم سے دعوت کھانا
سوال
کنونشل بینک کے منیجر نے طلبا کو 1500 روپے بطور صدقہ دئے اور کہا کہ تم لوگ ان پیسوں پر اپنے لیے پروگرام کرواب پوچھنا یہ ہے کہ اس سے پیسے لینا اور ان پیسوں پر پروگرام کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کنونشل بینک میں عموما سودی معاملات ہوتے رہتے ہیں اور اسلام میں سود کا حرام ہونا کسی سے مخفی نہیں .سود کا لین دین کرنے والوں کے ساتھ ساتھ سودی معاملات لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر بھی لعنت کی گئی ہے اس لیے سودی بینک کی وہ ملازمت جس میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون کرناپڑے تواس کی آمدنی حلال نہیں ۔
صور ت مسؤلہ کے مطابق کنونشل بینک کے منیجر سے پیسے لینا اور ان پیسوں سے دعوت کھانا شرعا جائز نہیں اگرلے لی ہو تو اس شخص کو دوبارہ کسی طریقہ سے لوٹادیا جائے اگر لوٹانا ممکن نہ ہو تو کسی محتاج کو صدقہ کیا جائے،تاہم اگر اس شخص کی آمدنی کے حلال ذرائع بھی ہوں اور اکثرآمدن کسی جائز پیشہ مثلا تجارت وغیرہ سے ہو تو اس صورت میں اس کے پیسوں سے دعوت کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔(صحيح المسلم، كتاب البيوع ،باب الربوا،ج:2،ص:27)
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال۔(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات،ج:5،ص:343)
كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه۔۔۔ وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔(رد المحتار علی هامش الدرالمختار،كتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء وغيره،فصل في البيع ،ج:9،ص:553)