بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گاؤں شہزادہ کوٹ میں نمازِ جمعہ


سوال

گاؤں شہزادہ کوٹ کی آبادی (مرد وزن، چھوٹے بڑے)تین ہزار ہیں، گاؤں میں اٹھارہ دکانیں ہیں جس کی نوعیت اس طرح ہے کہ اس میں نودکانیں مین سڑک کے  کنارے پر واقع ہیں، دو دکان سڑک کے شمالی کنارے پرواقع ہیں، جن میں ایک دکان گیس کا ہے اور دوسرےمیں ضرورت کے مطابق دوائی ملتی ہےاور سات دکانیں جنوبی کنارے پر واقع ہے، ان میں سے چار دکانوں میں آٹا، گھی، چینی،چاول، دال،لوبیا،سبزی اور مختلف قسم  کی پھل وغیرہ کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں، ایک میڈیکل سٹور بھی زیرِتعمیر ہے،بقایا نو دکانیں گاؤں میں متفرق طورپر موجود ہےجس میں سے ایک دکان آٹا چکی مشین کا ہے۔دو عد پرائمری سکول ،ایک پٹرول پمپ اور ایک ہسپتال بھی ہیں(جس میں فی الحال ڈاکٹراور دوائی موجودنہیں)، 14 عدد مساجد اور ایک دینی مدرسہ ہے۔گاؤں ہذا میں 18سال سے نمازِ جمعہ بھی جاری ہے ۔ کیا مذکورہ بالا شواہد کے پیشِ نظر گاؤں شہزاد ہ کوٹ میں اقامتِ جمعہ درست ہے یا نہیں؟دلائل کے ساتھ رہنمائی کریں۔

جواب

           جمعہ کی صحتِ ادائیگی کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصر ہے یا وہ بڑا گاؤں جس میں شہر کی طرح سہولتیں پائی جاتی ہوں۔مصر کی تعریف میں فقہاے کرام کی آرا مختلف چلی آرہی ہیں،  ہر فقیہ نے اپنے زمانہ کے حالات اور عرف کو دیکھ کر مصر کی تعریف کی ہے۔ موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور اس میں ضروریاتِ زندگی میسر ہوں تو وہ بڑے گاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اور وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا۔

              صورت مسئولہ کے مطابق اگرحسب سوال گاؤں "شہزادہ کوٹ"کی آبادی تین ہزارہو اور دکانوں میں اہم ضروریاتِ زندگی میسر ہوں تو اس گاؤں میں نماز جمعہ کا انعقاد صحیح ہے ۔‌

 

أما ‌المصر ‌الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:2، ص:188)

لا ‌تصح ‌الجمعة ‌إلا ‌في ‌مصر ‌جامع ‌أو ‌في ‌مصلى ‌المصر ‌ولا ‌تجوز ‌في ‌القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود۔ (الهداية،كتاب الصلاة ،باب صلاة الجمعة،ج:1، ص:177)

‌تقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا اسواق۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ج:3 ص:6)


فتویٰ نمبر : 9267/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور