بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مدعی علیہ کی غیر موجودگی میں شہادت سننا
سوال
کیا فیصلہ میں شہادت کی ادائیگی کے وقت مدعی علیہ کا حاضر ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظرسے شہادت کے لیے مجلس قضا کا ہونا ضروری ہے اسی طرح شہادت کی ادائیگی اور قضاے قاضی کے وقت قاضی کی مجلس میں مدعی علیہ کی موجودگی ضروری ہے ،البتہ کتاب القاضی الی القاضی (ایک قاضی کا دوسرے قاضی کے نام خط) کی صورت میں جب قاضی کاتب گواہوں سے گواہی سنتا ہے تواس وقت مدعی علیہ کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی بلکہ قاضی کاتب مدعی علیہ کی غیر موجودگی میں شہادت کی سماعت کرلیتا ہےاور اس کو خط کی صورت میں لکھ کر محفوظ کرلیتا ہے پھراسے بھیج دیتا ہے تاکہ قاضی مکتوب الیہ مدعی علیہ کی موجودگی میں مذکورہ شہادت پڑھ کراورقبول کرکے فیصلہ سنادے،چونکہ کتاب القاضی الی القاضی میں شہادت کی سماعت صرف نقل کرنے کے لیے ہوتی ہے فیصلہ کرنے یا حکم سنانے کے لیے نہیں ہوتی ، اس لیے اس وقت مدعی علیہ کی موجودگی ضروری نہیں رہتی ،کتاب القاضی الی القاضی کے علاوہ شہادت کی ادائیگی کے وقت مدعی علیہ کی موجودگی ضروری ہے۔
قال (وإذا وصل إلى القاضي لم يقبله إلا بحضرة الخصم إلخ) ۔۔۔ فإذا وصل الكتاب إليه لم يقبله إلا بحضرة الخصم؛ لأن ذلك بمنزلة أداء الشهادة، وذلك لا يكون إلا بمحضر الخصم، فكذلك هذا، بخلاف سماع القاضي الكاتب فإنه جاز بغيبة الخصم؛ لأن سماعه ليس للحكم بل للنقل فكان جائزا وإن كان بغيبته.(العناية شرح الهداية ،باب كتاب القاضي الي القاضي، ج:4، ص:180)
وهناك شروط أخرى من أهمها: أن الكتاب إذا وصل إلى القاضي قرأه على الخصم؛ لأنه بمنزلة أداء الشهادة، وهو لا يكون إلا بمحضر الخصم، فكذا هذا، منعاً من اتهام القاضي في شيء.(الفقه الإسلامي وأدلته، قضاء القاضي بكتاب قاضي آخراليه، ج:8، ص:5952)
(قوله: ولا يقضي على غائب) أي بالبينة، سواء كان غائبا وقت الشهادة أو بعدها، وبعد التزكية، وسواء كان غائبا عن المجلس أو عن البلد، وأما إذا أقر عند القاضي، فيقضي عليه وهو غائب؛ لأن له أن يطعن في البينة۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، مطلب في قضاء القاضي في غير مذهبه، ج:5، ص:409)