بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حرام کمانے کا ظن غالب ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ کھانا
سوال
اگر کسی رشتہ دار کے بارے میں غالب گمان ہو اور باقی رشتہ دار بھی کہتے ہوں کہ اس کی آمدنی اس کے پیشے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے تو کیا اس سے کھانے کی چیز لینا یا اس کے گھر کھانا پینا جائز ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص حلال اور حرام کماتا ہو لیکن اس پر حلال کمائی غالب رہتی ہو تو اس سوچ کے ساتھ اس کی دعوت قبول کرنی چاہئے کہ اس نے حلال کمائی سے کھلایا ہے، اس لیے اگر رشتہ دار کے بارے میں غالب گمان ہو کہ اس کی حلال اور حرام کمائی برابر ہے یا حلال کمائی کے مقابلے میں حرام کمائی زیادہ ہے تو اس صورت میں اس سےکھانے کی چیزلینا یا اس کے ساتھ کھانا پینا جائز نہیں، البتہ اگر وہ حرام کماتا ہے لیکن اس کی حلال کمائی اس کی حرام کمائی سے زیادہ ہے تو اس سے کھانے کی چیز لینا یا اس کے گھر کھانا پینا جائز ہے۔
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:342)
و إن كان غالب مال المهدي من الحلال لا بأس بأن يقبل الهدية و يأكل ما لم يتبين عنده أنه حرام لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فيعتبرالغالب. ( فتاوی قاضیخان، كتاب الحظر و الإباحة و ما يكره...،ج:3، ص:244)