بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حوائجِ اصلیہ میں خرچ ہونے والی رقم کی زکوٰۃ


سوال

اگر کسی کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ روپے ہو اور گھر کا ماہانہ خرچہ ایک لاکھ نوے ہزار ہوتو کیا یہ شخص تنخواہ لینے پر صاحب نصاب بن جاتاہے،اگر صاحبِ نصاب بنتا ہے تو کیا سال گزرنے کے بعد  آخری دن پر  تنخواہ لیتے ہی اس  پر زکوٰۃ واجب ہوگی  جبکہ ایک لاکھ نوے ہزار حوائج اصلیہ میں خرچ ہوں گے یا زکوۃ فرض نہ ہوگی؟

جواب

           شریعت مطہرہ کی رو سے زکوٰۃ کے وجوب کے لیے سال کی ابتداء و انتہاء میں نصاب  کا پورا ہونا لازمی ہے۔ درمیانِ سال میں نصاب کی کمی بیشی کا زکوٰۃ کے وجوب پر کوئی اثر نہیں پڑتا  البتہ درمیان سال میں نصاب کے بالکل ختم ہوجانے سے بندہ صاحب نصاب نہیں رہتا لہذا نصاب کے بقدر مال جب دوبارہ آجائے تو  پھر اسی دن سے دوبارہ سال کی ابتدا شمار ہوگی۔

            صورتِ مسئولہ میں سائل کی  تنخواہ   آجکل (ستمبر 2022)  کی چاندی کی قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب سے زیادہ ہے اس لیے سائل تنخواہ وصول کرنے پر صاحب نصاب شمار ہوگا   بشرطیکہ اس کے ذمے اتنی مقدار میں قرض نہ ہو کہ جس کے منہا کرنے سے بقیہ رقم نصاب سے کم بچ جاتی ہو۔ اور ہجری سال کے اعتبار سے   اگلے سال اسی دن واجب الاداقرضوں کو منہا کرنےکے بعد اس کی ملکیت میں جو سونا، چاندی، نقدی یا سامانِ تجارت ہو اگر وہ نصاب کے بقدر ہو تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔

 

تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال". (الفتاوى الهندية، کتاب الزکاة، الباب الثالث في زکاة الذهب والفضة ... ج:1، ص:178)

إن الزكوة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، مطلب في زكوة ثمن المبيع وفاءً، ج:3، ص:139)

ﻗﻮﻟﻪ:(ﻭﻧﻘﺼﺎﻥ اﻟﻨﺼﺎﺏ ﻓﻲ اﻟﺤﻮﻝ ﻻ ﻳﻀﺮ ﺇﻥ ﻛﻤﻞ ﻓﻲ ﻃﺮﻓﻴﻪ) ﻷﻧﻪ ﻳﺸﻖ اﻋﺘﺒﺎﺭ اﻟﻜﻤﺎﻝ ﻓﻲ ﺃﺛﻨﺎﺋﻪ ﺇﻣﺎ ﻻ ﺑﺪ ﻣﻨﻪ ﻓﻲ اﺑﺘﺪاﺋﻪ للإنعقاد ﻭﺗﺤﻘﻴﻖ اﻟﻐﻨﺎء، ﻭﻓﻲ اﻧﺘﻬﺎﺋﻪ ﻟﻠﻮﺟﻮﺏ.(البحر الرائق، كتاب الزكوة، باب زكوة المال، ج:2، ص:247)


فتویٰ نمبر : 9268/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور