بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
عالم کے ہاتھ کا بوسہ لیتے وقت جھکنا
سوال
ہمارے ہاں لوگ علماء سے ہاتھ ملاتے وقت بوسہ لینے کے لیے جھک جاتے ہیں ،کیا یہ جھکنا شریعت کے خلاف اور ناجائز ہے ؟ جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں غیر اللہ کے سامنے جھکنا لازم آتا ہے ۔
جواب
غیر اللہ کے سامنے جھکنے کی ممانعت اس وقت ہے ،جب جھکنے سے مقصود تعظیم یا عبادت ۔
بزرگوں سے ملتے وقت بوسہ لینے کی غرض سے جھکنے کے عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں،بلکہ اگر اس میں محبت وعقیدت کی نیت کی جائے تو باعث اجروثواب ہے۔علماء وصلحاء کے ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں۔
ويكره الانحناء عند التحية وبه ورد النهي كذا في التمرتاشي…… تقبيل يد العالم والسلطان العادل جائز ،ولارخصة في تقبيل يد غير هما هوالمختار.(الفتاوى الهندية:كتاب الكراهية،الباب الثامن والعشرون في ملاقات الملوك،ج:5،ص:369)