بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تسمیہ کے بجائے 786 لکھنا


سوال

اکثر لوگ خطوط وغیرہ کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے 786 کا ہندسہ لکھ دیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیایہ بسم اللہ کے قائم مقام ہے؟

جواب

           شریعت مطہرہ میں ہرعمل کو قرآن وسنت کے اصولوں کے مطابق پورا کرنے پر ثواب مرتب ہوتا ہے اور یہی چیز انسان کے اعمال میں ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، اسی بنا پرفقہاے کرام نے قرآن کریم کی کسی آیت یا اس کے تراجم کو حروف ابجد میں لکھنے پر ثواب کے مرتب نہ ہونے پر فتوی دیا ہے، کیونکہ قرآن کریم نظم (لفظ)و معنیٰ کے مجموعے کا نام ہے۔ صرف نظم یعنی الفاظ یا صرف معنی پر قرآن کا اطلاق نہیں ہوتا۔

           لہذا قرآن پاک کی کسی آیت کو حروف ابجد میں لکھنے یابسم الله الرحمٰن الرحیم کو 786 کے اعداد میں لکھنے پر ثواب نہیں ملےگا اور نہ ہی سنت ادا  ہوگی، تاہم بے حرمتی سے بچنے کے لیے تسمیہ کی بجائے 786  کا عدد تسمیہ کی نشانی کے طور پر لکھنے میں رخصت ہے، البتہ جہاں بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو، وہاں پورابسم اللہ ہی لکھنا چاہیے۔ نیز 786 نہ یہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" ہے، اورنہ ہی یہ اس کے قائم مقام ہے،بلکہ یہ کاتب کی جانب سے  ایک علامت ہے کہ اس نے ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی ہے؛ لہذا قاری بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لے۔‌

 

إن القرآن اسم للنظم والمعنى جميعا۔۔۔لاأنه إسم للنظم فقط،كما ينبئ عنه تعريفه بالإنزال، والكتابة،والنقل لاأنه اسم للمعنى فقط۔(نورالانوار، تعريف الكتاب وما يتعلق به، ص:9)

يكره ‌كتابة ‌قرآن أو إسم الله تعالى على ما يفرش لما فيه من ترك التعظيم وكذا على درهم ومحراب وجدار لما يخاف من سقوط الكتابة۔(حاشية الطحطاوي، باب الحيض والنفاس والاستحاضة، ص:148)


فتویٰ نمبر : 5111/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور