بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سیاسی امور میں شرکت کرنے والے علماء کی غیبت کرنا


سوال

ایک  شخص نےسیاسی بحث مباحثے کے دوران بطور نصیحت باحثین کو کہا کہ علماءکرام کی غیبت نہ کرو کیونکہ  حدیث میں اس سے منع آئی ہے تو وہ باحث کہتا ہے  کہ میں اس حدیث سے روگردانی کرتا ہوں  یعنی  غیر سیاسی علماء کرام کے متعلق  اس حدیث پر عمل کرتا ہوں اور سياسی علماء کے متعلق اس حدیث  سے روگردانی کرتا ہوں لہٰذا شرعا ایسے شخص کے متعلق  کیا حکم ہے؟

جواب

            حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی ہونے کے ساتھ  سیاسی امور کے نگران بھی تھے اور علماء انبیا  کرام علیھم السلام  کے وارث ہوتے ہیں اس لیے علماء  کی غیبت اس وجہ سے کرنا کہ یہ سیاسی امور  میں شریک ہوتے ہیں  دین اسلام سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ  سیاسی امور میں شریک ہونے والے علما ء کی غیبت کرے کیونکہ کسی بھی مسلمان کی غیبت کرنے  کو  قرآن پاک میں  اپنے مردہ  بھائی  کے گوشت کھانے کے مانند قرار دیا گیا ہے  ۔

          اس کے علاوہ اگر کوئی شخص  حدیث رسول ﷺپر عمل اس طور پر  کرتا ہو  کہ اگر اس کی  طبیعت  اور خواہش نفسانی  کے مطابق   ہو تو عمل  کرے اور  اگر طبیعت  اور خواہش کی موافق نہ ہو  تو روگردانی  کرے ،     یہ موجب عقاب  ہے  ۔

 

 قال الله تعالى:(وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ)۔(الحجرات:12)

وقال تعالی:( وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى)۔(طه:124)

بناء على تفسير الذكر بالقرآن، وكذا قوله تعالى بعد كَذلِكَ أَتَتْكَ آياتُنا فَنَسِيتَها [طه: 126] والمختار العموم أن يقول: الذكر يقع على القرآن وعلى سائر الكتب الإلهية۔۔۔ ، والمراد من الإعراض عن الذكر عدم الاتباع فكأنه قيل: ومن لم يتبع فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً أي ضيقة شديدة۔۔۔ وقال بعضهم: إن تلك المعيشة له في القبر بأن يعذب فيه۔۔۔ والمراد ضغطة القبر حتى تختلف فيه أضلاعه وروى ذلك مرفوعا أيضا.(روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم،ج:16،ص:288)         


فتویٰ نمبر : 5106/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور