بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ضبط تولید کی شرعی حیثیت
سوال
بغیر عذر شرعی کے خاندانی منصوبندی کرنا کیسا ہے؟
جواب
ضبط تولیداورخاندانی منصوبہ بندی کےحوالےسےآج اقوام عالم میں جوتحریکیں چل رہی ہیں اور"بچےدوہی اچھے"کےعنوان سےجوصدائیں بلندہورہی ہیں،اس کےعلم بردارمغرب سےمرعوب روشن خیال لوگ ہیں،جومعاشی اورمعاشرتی خوشگواری کےعنوان سےدرحقیقت آبادی میں کمی لانا چاہتےہیں۔چونکہ انہوں نےاللہ تعالی کی ذات پراعتماداورتوکل کی بجائےوسائل اورمادہ کواپنامطمح نظربنالیاہے،اس لیے بڑھتی آبادی کوکنٹرول کرنےکےلیے ان کوخاندانی منصوبہ بندی کی سوچ اپنانی پڑی۔ظاہرہےکہ یہ اللہ کی صفت رزاقیت سےکھلی بغاوت ہے۔لہذاکسی مسلمان کےلیےجائزنہیں کہ اس عمل میں آلہ کاربنے۔تاہم اگر صحت کی خاطر ضبط تولید کی کوئی صورت اختیارکی جائےیعنی بچےیاماں کی صحت منظورنظرہو،یامعاشرتی بگاڑکی وجہ سےبچوں کی صحیح تربیت سےعاجزہوں،توایسی صورت میں مانع حمل تدابیرکی شریعت میں اجازت ہے۔
قال اللہ تعالی:وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا۔(بنی اسرائیل:31)
العزل ليس بمكروه برضاامرأته الحرة۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1،ص:335)