بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کتوں کےذریعےجرائم کی تفتیش کرنا


سوال

تربیت یافتہ کتوں کےذریعےمختلف جرائم اورمجرموں کی تفتیشی کارروائی کوشریعت میں گواہی کادرجہ دیاجاسکتاہےیانہیں؟

جواب

               قاضی کی مجلس میں کسی حق کوثابت کرنےکی غرض سےلفظ گواہی کےذریعےسچی خبردینےکانام شہادت ہےاورشہادت کی ادائیگی سےکسی کودیکھےہوئےواقعےکاقاضی کےسامنےاظہارکرنامرادہے،جس کےلیےگواہ کاعاقل،بالغ،مسلمان،بینااورعادل(قابل اعتبار)ہوناضروری ہے،اسی طرح کسی دعوی کےاثبات کےلیےمدعی کودوگواہوں کاپیش کرنایامدعی علیہ کاخوداقرارکرناضروری ہے،ورنہ بصورت دیگرمدعی علیہ کوقسم دی جائےگی،اورقسم اٹھانے کی صورت میں وہ بری الذمہ قراردیاجائےگا۔

               شہادت کی ادائیگی کی شرائط کومدنظر رکھ کریہ بات واضح ہےکہ تربیت یافتہ کتاکسی قسم کی گواہی کااہل نہیں اورنہ اس کی تفتیشی کارروائی کوگواہی کی طرح قبول کیاجاسکتاہے،ہاں اس کےذریعےکھوج لگانےسےحقیقت تک رسائی میں آسانی پیداہوسکتی ہے،اس لیےیہ ذریعہ جرم یامجرم کےاثبات اورتعیین میں صرف تائیدتوہوسکتی ہے،لیکن مدعی علیہ پرکتوں کےذریعےکسی دعوی کاثبوت یاکسی جرم کاالزام اس وقت تک جائزمتصورنہیں ہوگا،جب تک اس کےاثبات میں شریعت کےمعتبرذرائع یعنی دوگواہوں کی گواہی یامدعی علیہ کااقرارموجودنہ ہو۔

 

إخبارصادق بلفظ الشهادة لإثبات حق لغيره على غيره في مجلس القضاءولوبلادعوى۔(حاشية على بدائع الصنائع،كتاب الشهادات،ج:9،ص:3)

(وشرطهاالعقل الكامل ) وقت التحمل والبصر ومعاينة المشهود۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الشهادات،ج:8،ص:173)

(وإذا صحت الدعوى سأل القاضي المدعى عليه عنها)لينكشف له وجه الحكم (فإن اعترف قضي عليه بها )لأن الإقرار موجب بنفسه فيأمره بالخروج عنه (وإن أنكر سأل المدعي البينة )لقوله عليه الصلاة والسلام ألك بينة ؟فقال: لا ،فقال:لك يمينه (الهداية،كتاب الدعوى،ج:3،ص:210)

 


فتویٰ نمبر : 5104/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور