بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
اسلام میں چالیسواں منانا
سوال
اسلام ميں چاليسواں كی کیا حقیقت ہے۔جو لوگ چالیسواں کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اسلامی تیسرا چاند چڑھنے سے پہلے کرے ورنہ میت کے جوان بچوں کے لیے اچھا نہیں ہے ؟
جواب
مردہ کے ایصال ثواب کے لیے مخصوص ایام میں خیرات وصدقات کرنا اور لوگوں کودعوت دےکر باقاعدہ ایک تقریب کی شکل دینے کا شریعت میں کہیں کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے فقہاے کرام نےچالیسویں کو بدعت کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ اور چالیسواں نہ منانے کی صورت میں میت کی اولاد کو نقصان ہوجانے کا عقیدہ رکھنا منگھڑت اور بے بنیاد ہے۔
يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع فی السرور لا فی الشرور، وهی بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ".وفی البزازية: ويكره اتخاذ الطعام فی اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ۔(ردالمحتار على الدرالمختار، کتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت،ج:3،ص:148)