بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بغیراجازت استعمال شدہ انٹرنیٹ ڈیٹا کا حکم
سوال
اگر کسی شخص نے بغیر اجازت کے مختلف لوگوں کا انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال کیا ہو ، اب اس کی تلافی کرنا چارہا ہو، جبکہ اس کو ان لوگوں کا پتہ بھی نہ ہوجن کا ڈیٹا استعمال کیا ہو،اب وہ کس طرح اس کی تلافی کرے؟
جواب
کسی دوسرے شخص کا انٹرنیٹ ڈیٹا اس کی اجازت یا رضامندی کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا جن لوگوں کا انٹرنیٹ ڈیٹا بلا اجازت استعمال کیا ہے، اگر وہ معلوم نہ ہوں، تو ایسی صورت میں استعمال شدہ انٹرنیٹ ڈیٹا کى مالیت کا حساب لگا کر اتنے پیسے اصل مالک کی طرف سے کسى مستحق کو صدقہ کر دیے جائیں۔
عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»۔( مشکوۃ المصابیح، كتاب البيوع، باب الغصب و العاریۃ، رقم الحدیث: 2946، ج:2، ص:889)
والتصرف في ملك الغير من غير إذنه محظور في الأصل.(بدائع الصنائع،فصل في الشرائط اللتي ترجع إلی المقسوم له ج:9،ص:153 (
قال: " فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها " إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها.قال: " فإن جاء صاحبها " يعني بعد ما تصدق بها " فهو بالخيار إن شاء أمضى الصدقة " وله ثواها لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم يحصل بإذنه فتيوقف على إجازته والملك يثبت للفقير قبل الإجازة فلا يتوقف على قيام المحل بخلاف بيع الفضولي لثبوته بعد الإجازة فيه " وإن شاء ضمن الملتقط۔( الهداية، كتاب اللقطة، ج:2، ص:418)