بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پلاٹ میں پیشگی ادا کیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ


سوال

اگر کوئی شخص  پلاٹ خرید لے اور اس پلاٹ کی قیمت تیس لاکھ روپیہ ہو اور پندرہ لاکھ روپیہ وہ ادا کر چکا ہو اور باقی پندرہ لاکھ روپیہ قسط وار ادا کرے گا لیکن ابھی تک  پلاٹ پر قبضہ نہ کیا ہو اور پلاٹ کا قبضہ  مالک پورے پیسے ادا کرنے کے بعد دے گا تو کیا  جو پیسے اس شخص نے ادا کیے ہیں  اس کی زکوۃ اس  پر واجب ہوگی یا نہیں ؟

جواب

             واضح رہے کہ زکوۃ کے وجوب کےلیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ  شخص اس مال کا باقاعدہ مالک ہو اور اس میں  اس کو تصرف کا اختیار حاصل ہو۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  سائل نے پلاٹ کے جو پندرہ لاکھ روپیہ ادا کیے ہیں وہ اس کی ملکیت سے نکل چکے ہیں لہذا اب ان پیسوں کی زکوۃ  اس پر واجب نہیں ہوگی۔

 

وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل الشرائط التي ترجع إلى المال،ج:2،ص:9)

وأما زكاة الأجرة المعجلة عن سنين في الإجارة الطويلة التي يفعلها بعض الناس عقودا ويشترطون الخيار ثلاثة أيام في رأس كل شهر فتجب على الآجر لأنه ملكها بالقبض... ولو كانا تقابضا في الأجرة والدار فظاهر أنه لا زكاة على المستأجر لزوال ملكه بالتعجيل.(فتح القدير،كتاب الزكاة،ج:2،ص:166)


فتویٰ نمبر : 9260/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور