بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق كی دھمکی دینے سے طلاق واقع ہونے کا حکم


سوال

  ایک شخص کا اپنی بیوی سے خوب جھگڑا ہوا اس دوران شوہر نے بیوی سے کہا کہ "اگر تم خاموش نہ ہوئی تو تمہیں طلاق دے دوں گا" ایسا متعدد بار کہا بیوی نے جواب میں کہہ دیا کہ"دے دو طلاق مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا" اس پر شوہر نے اس سے کہا کہ صبر تمہارے بھائی کو بلاتا ہوں اور پھر تمہیں طلاق دیتا ہوں، بھائی کو فون کر کے کہا کہ آکر اپنی بہن کو لے جائے، جب بھائی آگیا تو شوہر نے اسے طلاق نہیں دی بلکہ اسے بھائی کے ساتھ گھر بھیج دیا۔ شوہر کہتا ہے کہ میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا صرف تنبیہ کر رہا تھا۔ کیا اس سے طلاق واقع ہوئی ہے؟

جواب

              کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ "اگر ایسا کیا تو طلاق دے دوں گا" اور پھر طلاق نہ دے تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

            صورت مسؤلہ میں بیان کردہ الفاظ کے علاوہ اگر کوئی الفاظ نہیں کہے ہوں تو طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

 

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال۔ (تنقیح الفتاوى الحامدية، کتاب الطلاق، ج:1، ص:38)


فتویٰ نمبر : 6486/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور