بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
رضاعی بہن کی سگی بہن سے نکاح کرنا
سوال
ایک عورت نے اپنے بیٹے اور اپنی بھتیجی کو ایک ساتھ دودھ پلایا ہے ،اب وہ عورت اس لڑکی کی بڑی بہن جس کو اس عورت نے دودھ نہیں پلایا اس سے اپنے بیٹے کا نکاح کرانا چاہتی ہے ۔ کیا شرعا یہ نکاح جائز ہے؟
جواب
اگر کوئی عورت کسی بچی کو مدت رضاعت میں دودھ پلائے تو اس بچی پر اس عورت کا شوہراور اس عورت کے تمام اصول و فروع حرام ہوجاتے ہیں ، تاہم حرمت رضاعت کا حکم صرف دودھ پینے والی بچی تک محدود رہتا ہے ۔
صورت مسؤلہ میں جس بھتیجی نے اس عورت کا دودھ پیا ہے وہ اور اس عورت کی اولاد آپس میں بہن بھائی ہیں لیکن حرمت نکاح صرف اس بھتیجی تک محدود رہے گی۔ اس کی بڑی بہن جس نے اس عورت کا دودھ نہیں پیا ، اس کے لیے اس عورت کے بیٹے سے نکاح کرنا جائز ہے۔
لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها لأنها أختهم من الرضاعة۔( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410/411)