بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زکوۃ میں کتابیں دینا
سوال
اگر کوئی سرمایہ دار مدرس زکوۃ کے پیسوں سے دینی کتب خریدتا ہے اور پھر غریب طلبا کو یہ کتب زکوۃ کی نیت سے دیتا ہے تو کیا اس طریقے سے زکوۃ کی ادائیگی ہو جاتی ہے؟
جواب
جس طرح زکوۃ میں کسی کو رقم تملیکا دینا جائز ہے، اسی طرح کسی مستحق کو زکوۃ میں کتابیں دینا بھی جائز ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ کتابیں مستحقین کو باقاعدہ تملیکا دی جائیں۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق زکوۃ کی رقم سے خریدی ہوئی کتابیں غریب طلبا کو زکوۃ کی نیت سے ملکیتا ًدینا شرعا جائز ہے ۔
وأما الذي يرجع إلى المؤدى فمنها: أن يكون مالا متقوماً على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أولا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكوة،أو من غير جنسه.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة،فصل فيمايرجع إلى المؤدى،ج2،ص461)