بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عشر سے پہلے اخراجات منہا کرنا


سوال

 گندم اور بھنڈی  کے فصل  پردو طرح کےاخراجات  آتےہیں:1۔فصل تیار ہونے تک کا خرچہ مثلا کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دوائیوں کے سپرے ،بہتر پیداوار کے لیے کھاد  کا خرچہ۔2۔فصل تیار ہونے کے بعد کا خرچہ مثلا پیداوار کی کٹائی کی اجرت،گندم کے فصل میں تھریشر کا خرچہ بھنڈی کو منڈی تک لے جانے  اور اس پر کمیشن کا خرچہ وغیرہ۔اب سوال یہ ہے کہ ادائیگی عشر سے پہلے ان میں سے کون سے اخراجات منہا کریں گے اور کون سے نہیں؟

جواب

           زمین سے حاصل شدہ  کل پیداوار میں عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے اس لیےفصل کی تیار ی  تک ہونے والے جملہ اخراجات کو منہا کرکے عشر ادا کرنے کی شرعا اجازت نہیں ،  بلکہ  مجموعی پیداوار سے عشر ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ عشر اور نصف عشر کا مدار  خرچہ  ومحنت پر ہے۔

           صورت مسئولہ میں فصل تیار ہونے تک  دوائی کے سپرے  ،کھاد ،پیداوار کی کٹائی  کی اجرت  ،تھریشر  کا خرچہ، اور اسی طرح پیداوار کو منڈی تک لے جانے اور کمیشن کا خرچہ  عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کرنا جائز  نہیں ہے۔

 

وكل شيء أخرجته الأرض مما فيه العشر،لايحتسب فيه أجر العمال،و نفقة البقر؛لأن النبيﷺ حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة،فلا معنى لرفعها۔(الهداية،كتاب الزكوة،باب زكوة الزروع والثمار،ج:1،ص:219)

ولو باع العنب أخذ العشرمن ثمنه وكذالك لوإتخذه عصيرا ثم باعه فعليه عشرثمن العصيركذا في محيط السرخسي۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،في زكوة الزرع والثمار،ج:1،ص:249)


فتویٰ نمبر : 9254/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور