بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زکوۃ میں نیت کا اعتبار
سوال
کیا زکاۃ دینے والے کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکاۃ کے پیسے ہیں؟
جواب
زکوۃ کی شرائط میں اہم شرط دینے والےکا زکوۃ کی نیت کرنا ہے۔زکوۃ کی رقم دیتے وقت یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا اظہار کیا جائے ، بلکہ صرف نیت سے زکوۃ ادا ہو جاتی ہے، چنانچہ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زکوۃ دیتے وقت یہ کہے کہ یہ رقم قرض کےطور پر دیتاہوں یا یہ رقم عطیہ ہے اور دل میں زکوۃ کی نیت ہو تب بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی ۔
ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية ۔(الفتاوی الهندية،كتاب الزكوة،الباب الاول في تفسيرالزكوة وصفتها وشرائطها ،ج:1،ص: 171)