بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
یہودیوں کے ساتھ کاروبار کرنا
سوال
کیا یہودیوں کے ساتھ لین دین یا کاروبار کرنا جائز ہے؟
جواب
کسی غیر مسلم کے ساتھ تجارت کرناجائز ہے بشرطیکہ مسلمان کا دینی لحاظ سے کوئی نقصان نہ ہو اور مسلمانوں کی طاقت وقوت بھی اس سے متاثر نہ ہوتی ہو اور کاروبار میں شرعی اصولوں کالحاظ بھی رکھاجاتاہو۔
صورت مسؤلہ میں یہودیوں کے ساتھ لین دین یا کاروبار کرنا جائز ہے تاہم اگر کوئی یہودی عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہو تو بہتر یہی ہے اور غیرت کا تقاضہ بھی یہ ہےکہ محض دنیاوی فوائد کے حصول کے خاطر ان کے ساتھ کوئی لین دین کا کاروبار نہ کیا جائے۔
عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ ( صحیح البخاری، باب شراء النبي صلى الله عليه وسلم بالنسيئة، رقم الحدیث: 2068، ج:3، ص:56)
ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام، ونحو ذلك إليهم؛ لانعدام معنى الإمداد، والإعانة، وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من باب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى. (بدائع الصنائع، كتاب السير، فصل في بيان ما يعترض من الأسباب المحرمة للقتال، ج:7، ص:102)