بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسہ میں باجماعت نماز پڑھنا


سوال

ہمارا مدرسہ نیا تعمیر ہوا ہے اور ابھی تک اس میں مسجد نہیں بنی اور نہ ہی مسجد کے نام سے کسی جگہ کا تعیّن ہوا ہے۔ مدرسہ  کے اساتذہ و طلباء پنجگانہ نمازیں یہیں مدرسہ میں باجماعت ادا کرلیتے ہیں اور کچھ محلہ کے احباب بھی جماعت میں شرکت کرتے ہیں۔ جبکہ محلہ کی مسجد مدرسہ سے 3، 4 منٹ پیدل چلنے کے فاصلہ پر ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں کہ مدرسہ کے قریب مسجد موجود ہو مدرسہ ہی میں اقامت جماعت درست ہے؟ کیا مسجد سے دوری اس کے لیے کو ئی عذر ہوسکتا ہے؟

جواب

            فرض نماز مسجد ہی میں باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بغیر کسی شرعی عذر کے مسجد کی نماز نہیں چھوڑنی چاہیے،دور سے بھی مسجد میں آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نماز میں سب سے زیادہ ثواب اُن کو ملتا ہے جو زیادہ دور سے آتے ہیں ۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق مسجد سے تین چار منٹ کی دوری کوئی شرعی عذر تو نہیں، البتہ انتظامی ضرورت کی بنیاد پر اگر مدرسہ کے اندر ہی اسا تذہ وطلبہ با جماعت نماز پڑھنا چاہیں تو ان کی نمازہوجاتی ہےاوران کو باجماعت نماز کا ثواب اور فضیلت مل سکتی ہے، تاہم مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت بہر حال زیادہ  ہے ۔

 

عن أبي موسى، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: أعظم الناس أجرا في الصلاة أبعدهم، فأبعدهم ممشى والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الإمام أعظم أجرا من الذي يصلي، ثم ينام۔(صحيح  البخاري، کتاب الجماعة والإمامة،  باب فضل صلاة الفجر في جماعة، ج:1، ص:623)

عـن جـابـر بـن عبـد الله قال: قال رسول الله ﷺ:" أعطيت خمسا لم يعطهن أحد من الأنبياء قبلی نـصـرت بـالـرعـب مسيرة شهر، وجعلت لى الأرض مسجدا وطهورأوايمارجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل“.(صحيح البخاری، کتاب الصلوة،باب قول النبي ﷺ جعلت لي الأرض مسجدا وطهور، ج:1، ص:62)

 (قوله: في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية ۔۔۔ (فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي  (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى) وإن وجد قائدا (ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين)۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة،باب الامامة،ج:1،ص:554 ،555)


فتویٰ نمبر : 9245/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور