بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا


سوال

میں نے بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اس کے بعد ہم بہت پریشان تھے اور خاندان میں کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا اس لیے ہم نے رسوائی سے بچنے کے لیے حلالہ کا فیصلہ کیا ،تاکہ دوبارہ نکاح کر سکیں، تو میں نے ایک قریبی دوست سے بات کی ، وہ اللہ کی رضا  کی خاطر اور ہماری عزت بچانے کے لیے خفیہ نکاح کے لیے رضا مند ہو گیا،  تاکہ حلالہ ہوجائےاور میری مطلقہ بھی اپنی رضامندی سے حلالہ کے لیے تیار ہوگئی ۔ اس کے بعد  میری مطلقہ نے مجھے نکاح کے لیے اپنا وکیل بنا لیا اور یہ اجازت بھی دی کہ اپنے دوست کو میری طرف سے  نکاح کا وکیل مقرر کر سکتے ہو، لیکن وکیل بنانے پر کوئی گواہ موجود نہ تھا کیونکہ ان باتوں کا علم صرف ہم تینوں کو تھا۔ پھر میں نے اپنے دوست کو اپنی مطلقہ  کا نام  اس کے والد صاحب کے نام کے ساتھ کہا کہ اس نے آپ کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کیا ہے  لہذااب آپ وکیل کی حیثیت سے اپنا نکاح اس کے ساتھ کرسکتے ہیں لیکن اس وقت کوئی گواہ موجود نہ تھا ۔ اس کے بعد میرے دوست نے دو اجنبی گواہوں کے سامنے کہا کہ میں نے بطور وکیل فلاں بنت فلاں کو اتنے شرعی حق مہر کے عوض اپنے نکاح  میں قبول کیا۔نوٹ:1۔ نکاح میں لڑکی، اس کے والد اور دادا کا نام لیا تھا۔2۔اس وقت لڑکی  مجلس میں موجود نہیں تھی لیکن اس  کو سب  باتوں کا علم تھا۔3۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کی تصویر دیکھی تھی باقی ایک دوسرے سے کبھی بات بھی نہیں کی تھی ۔4۔ نکاح کے اس معاملے میں سب کی نیت حلالہ کی تھی اورسب کی نیت ہمبستری کے بعد طلاق کی تھی ، البتہ کوئی دباؤ یا زبردستی نہیں تھی۔5۔   جب لڑکی کو نکاح کا علم ہوا اس وقت  بھی نکاح پر رضامند تھی۔تو کیا یہ نکاح ہو گیا ہے؟ اگر نہیں ہوا تو اس میں غلطی کی نشان دہی کریں جس کی وجہ سے نکاح نہیں ہوا ہے۔

جواب

               شوہر اگر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو  عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے اور اس کے بعد شوہر کے لیے رجوع  یا تجدیِد نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا، تاہم اگر  عورت عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرے پھر وہ اس سے ہم بستری کرنے کے بعد از خود  طلاق دے دے یا مرجائے  تو پھر یہ عورت اس دوسرے شوہر کی  عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ لیکن  اس شرط کے ساتھ نکاح کرنا کہ وہ شخص  ہمبستری کے بعد طلاق دے گا؛ تاکہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے  سخت گناہ، لعنت کا سبب  اور مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگرعقد  نکاح کے وقت کوئی شرط نہ لگائی جائے اور صرف اس شخص کے دل میں یہ ارادہ اور نیت ہو، تو اس کی گنجائش ہوگی، اور یہ صورت حدیث میں وارد ہونے والی وعید کا مصداق نہیں ہوگی۔

              صورت مسؤلہ میں  بیان کردہ تفصیلات  کے مطابق یہ  نکاح درست ہوا تھا بشرطیکہ عورت نے عدت پوری کی تھی۔

 

عن أبي هريرة، قال: " لعن رسول الله المحل، والمحلل له". (مسند أحمد، رقم الحدیث:8287، ج:8، ص:266)

(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث لعن المحلل والمحلل له (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للاول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق. ( رد المحتار، کتاب الرجعة، ج:1، ص:231)

(قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد، أما الشهادة على التوكيل بالنكاح فليست بشرط لصحته كما قدمناه عن البحر، وإنما فائدتها الإثبات عند جحود التوكيل. وفي البحر قيدنا الإشهاد بأنه خاص بالنكاح لقول الإسبيجابي: وأما سائر العقود فتنفذ بغير شهود ولكن الإشهاد عليه مستحب علية. (ردالمحتار،كتاب النكاح، ج:3، ص:21)

وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد أيضا، ولا يخفى أن قوله زوجت بنتي وله بنتان أقل إبهاما من قول الوكيل زوجت فاطمة ويأتي تمام ذلك عند قوله: وحضور شاهدين حرين وعند قوله غلط وكيلها إلخ.  (ردالمحتار، كتاب النكاح، ج:3، ص:15)

وإن كانت غائبة، ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها وجوز الخصاف النكاح مطلقا حتى لو وكلته فقال: بحضرتهما زوجت نفسي من موكلتي أو من امرأة جعلت أمرها بيدي فإنه يصح عند. (البحر الرائق، كتاب النكاح، ج:3، ص:95)


فتویٰ نمبر : 6485/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور