بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنے کا حکم
سوال
زید کی دو بیویاں ہیں عائشہ اور حمیرا۔ عائشہ سے چار بیٹے(زید، ساجد، صفوان، عثمان) اور ان میں زید سے دو بیٹے(سراج، احسن) اور ایک بیٹی(لبابہ) ہیں، جب کہ دوسری بیوی حمیرا سے بھی چار بیٹے(عمرو، بکر، علی، اسامہ) ہیں اور ان میں عمرو کے دو بیٹے اور ایک بیٹی(سجاد، نعمان اور فاطمہ) ہیں اور اسامہ کی دو بیٹیاں(سائرہ، کلثوم) ہیں سجاد نے عائشہ کا دودھ پیا ہے جس کی وجہ سے وہ لبابہ جو کہ عائشہ کی پوتی ہے سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ عائشہ سجاد کی رضاعی ماں ہے اور اس طرح سجاد لبابہ کا چچا، لیکن سجاد اسامہ کی بیٹیوں میں سے کسی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں جو کہ اس کی چچا کی بیٹیاں ہیں؟
جواب
ماں کے علاوہ کوئی عورت اگر مدت رضاعت میں کسی بچے کو دودھ پلا دے تو اس سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ وہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن جاتی ہے جب کہ اس عورت کا شوہر اس بچے کا رضاعی باپ بن جاتا ہے اور ان کی اولاد اس بچے کے رضاعی بہن بھائی بن جاتےہیں۔
صورت مسؤلہ میں سجاد نے عائشہ کا دودھ پیا ہے تو وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی اور زید جو اس بچے کا نسبی دادا ہے وہ اس کا رضاعی باپ ہو گیا اورزید کی اولاد اس بچے کے رضاعی بہن بھائی ہوئےلہذا اسامہ کی بیٹی سجاد کی بھتیجی ہوئی چنانچہ اس سے نکاح جائز نہیں۔
قال الله تعالى: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ﴾۔ (النساء: 23)
(قوله: وحرم به، وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم منه بالنسب) أي حرم بسبب الرضاع ما حرم بسبب النسب قرابة وصهرية في هذه المدة ولو كان الرضاع قليلا لحديث الصحيحين المشهور: «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب» ومعناه أن الحرمة بسبب الرضاع تعتبر بحرمة النسب فشمل حليلة الابن، والأب من الرضاع لأنها حرام بسبب النسب۔ (البحر الرائق، كتاب الرضاع، ج:3، ص،388)
(قوله: زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت وأخوه عم وأخته عمة) بيان لأن لبن الفحل يتعلق به التحريم لعموم الحديث المشهور۔ (البحر الرائق، كتاب الرضاع، المحرمات بسبب الرضاع، ج:3، ص:393)