بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
اولاد کا چھن جانا
سوال
میری شادی ایک اچھی جگہ ہوئی ہے لیکن جہاں میں حالت حمل میں رہتی تھی وہ گھر بہت تنگ تھا اور میں بار بار شوہر کو تنگ کر رہی تھی کہ بچے کے ساتھ یہاں رہنا مشکل ہوگا اور روزانہ شوہر سے گلے شکوے کرتی تھی۔ حالت حمل میں بچہ بھی ٹھیک تھا اور میں ڈاکٹر سے رابطے میں تھی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ جب تک درد زہ شروع نہ ہو جائے ہسپتال نہ جاؤ اور سب گھر والے کہہ رہے تھے اس کا کھانا پینا اچھا ہے اس کا بچہ بہت تندرست ہوگا اس لئے شائد نظر لگ گئی ہو لیکن جب درد ز ہ شروع ہوا اور میں ہسپتال گئی توپتہ چلا بچہ فوت ہو چکا ہے تو میری دنیا تاریک ہو گئی اور مجھے اپنی نا شکری کی سزا مل گئی اس کے بعد بھی ایک حمل ضائع ہو گیا تو کیا اللہ مجھے معاف فرمائے گا؟ اور کیا دوبارہ مجھے یہ نعمت مل سکتی ہے یا ایک دفعہ چھن جانے کے بعد اللہ دوبارہ نعمت عطا نہیں کرتا؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ اولاد کی موت ماں باپ کے لیے بہت بڑے غم اور صدمے کا باعث ہے، البتہ اولاد کے چھن جانے میں اللہ تعالی کی حکمت ہوتی ہے جس کے بارے میں انسان کو پتہ نہیں ہوتا اس لیے اولاد کی موت کو اللہ تعالی کا فیصلہ سمجھ کر صبر کرنے پر والدین کے لیے بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ "قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! بے شک ساقط شدہ حمل اپنی ماں کو بریدہ ناف کے حصے سے کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا جب وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔" اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حمل کے ساقط ہونےپر صبر کرنے کی صورت میں انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہےاور یہ ضروری نہیں کہ ناشکری یا نظر لگنے کی وجہ سے حمل ساقط ہوا ہو بلکہ اس کی وجہ صرف اللہ تعالی کو معلوم ہوتی ہے اور تقدیر میں یہی لکھا ہوتا ہے اور اس میں ضرور کوئی حکمت چھپی ہوتی ہے اس لیے سائلہ کو چاہیےکہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ مورد الزام نہ ٹھہرائے اور صبر کرے اور اللہ سے ناامید نہ ہو بلکہ اس سے نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگے اور امید رکھے، اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔
قال الله تعالی: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴾ (البقره، آيت:155)
قال الله تعالی: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيم﴾. (الزمر،آيت:53)
عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: والذي نفسي بيده إن السقط، ليجر أمه بسرره إلى الجنة إذا احتسبته. (سنن ابن ماجه، باب ما جاء فيمن أصيب بسقط، رقم الحديث:1609، ج:1 ص:513)
عن علي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن السقط ليراغم ربه إذا دخل أبواه النار حتى يقال أيها السقط المراغم ربه ارفع، فإني أدخلت أبويك الجنة قال: فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة. (مصنف ابن أبي شيبه، باب في ثواب الولد يقدمه الرجل، رقم الحديث: 1887، ج:3، ص:37)