بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مستقبل کےصیغہ کےساتھ طلاق دینا
سوال
ایک شخص نےگھرمیں ایک کام پرغصہ ہوکراپنی بیوی سےکہا:"اگریہ کام دوبارہ کیاتوفارغ کردوں گا"بعدمیں اپنےالفاظ پربڑاپشیمان ہوا۔کیا ان الفاظ سےطلاق واقع ہوتی ہے؟
جواب
مستقبل کےصیغہ سےطلاق واقع نہیں ہوتی،"فارغ کردوں گا"کاجملہ مستقبل پردلالت کرنےکی وجہ سے محض وعدہ طلاق ہے۔اوروعدہ طلاق سےطلاق واقع نہیں ہوتی،لہذاچاہےمذکورہ شخص کی بیوی وہ کام کرےیانہ کرےبہرصورت ان الفاظ سےطلاق واقع نہیں ہوگی۔
صيغة المضارع لايقع بهاالطلاق إلاإذاغلب في الحال۔(تنقيح الحامدية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:38)
فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال۔(الفتاوى الهندية،الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية،ج:1،ص:384)