بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرنا
سوال
1:کوئی فرد یا گروہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرے نیز مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرنا جس میں راستوں کو بند کیا جاتا ہو شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو احتجاج کا درست طریقہ کار کیا ہوگا؟
2:مطالبات پورا کرنے کے لیے حکومت وقت کی ذمہ داری کیا ہے؟
3:احتجاج کے دوران سرکاری املاک یا ملازمین یا لوگوں کے ذاتی املاک کو نقصان پہنچانے کا کیا حکم ہے، نیز اس نقصان کی تلافی کس کی ذمہ داری ہے؟
4:احتجاج رکوانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا احتجاج والوں پر تشدد کرنا کیسا ہے نیز احتجاج رکوانے کا صحیح طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
5: احتجاج رکوانے کے لیے کام موقوف کرتے ہوئے ہڑتال کرنا کیسا ہے نیز دوسرے افراد کو ہڑتال میں شرکت پر مجبور کرنا کیسا ہے؟
جواب
جواب سوال نمبر:1
حقدار کو اپنا حق وصول کرنے کے لیے جائز حد تک تگ و دو کرنے کا شریعت نے حق دیا ہے چاہے وہ جرگہ کی صورت ہو یا عدالت سے رجوع کی صورت ہویا احتجاج کی صورت ہو بہر صورت صاحبِ حق اپنا حق وصول کرنے کے لیے مطالبہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے بشرطیکہ اپنا حق وصول کرنے میں دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی نوبت نہ آئے۔
اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے سے متعلق رسول اللہ کی سیرت سے چند واقعات بطورِ دلیل پیش کیے جاسکتے ہیں ، ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک آدمی اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا تو آپ نے اسے اپنا سامان راستے میں رکھنے کو کہا ، اس آدمی نے اپنا سامان راستے میں ڈال دیا پس لوگ راستے سے گزرتے تو پوچھتے کہ کیا ہوا یہ آدمی بتاتا کہ پڑوسی اذیت دیتا ہے تو لوگ پڑوسی کو بددعا دیتے جاتے یہاں تک کہ پڑوسی آیا اور کہنے لگا کہ سامان اٹھا لو آئندہ کبھی تجھے اذیت نہ دوں گا ۔ مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے راستے میں احتجاج کے لیے سامان رکھوانے کا کہا جو کہ احتجاجا رکھا گیا اور اس احتجاج کا نتیجہ بھی حاصل ہوا اس لیے اگر اپنے حق کی وصولی کی خاطر ایسا طریقہ اختیار کیا جائے تو شرعا اس کی گنجائش ہوگی۔
اسی طرح ایک اور واقعہ حلف الفضول کا بھی ہے کہ جب باہر سے ایک آدمی مکہ آیا اور اس پر ظلم ہوا تو اس نے مکہ کے لوگوں کو پکارا جس کی وجہ سے لوگ ایک گھر میں جمع ہوئے اور حق کے ساتھ کھڑے رہنے اور مظلوم کو اس کا حق دلانے کے لیے متحد ہوئے اور اسی پر حلف لیا گیا ، اور پھر سارے لوگ اکھٹے ہو کر اس ظالم کے پاس گئے اور اس سے مظلوم کا حق وصول کیا، اس معاہدہ کی تحسین آپ نے نبوت ملنے کے بعد بھی کی اور فرمایا کہ اگر مجھے آج بھی اس طرح کے کسی معاہدہ کی طرف بلایا جائے تو ضرور شریک ہو جاؤں۔ اس واقعہ سے بھی معلوم ہوا کہ اپنے حق کے لیے مطالبہ کرنا اور لوگوں کو جمع کرنا اور ایسے افراد کے ساتھ امداد کرنا جائز ہے۔
جہاں تک احتجاج میں راستوں کو بند کرنے کا تعلق ہے تو اس سے متعلق شریعت کی واضح ہدایت موجود ہے کہ رسول ا للہ نے راستے میں بیٹھنے سے منع فرمایا کیونکہ یہ راہگیروں کے لیے باعثِ تکلیف ہےلہذا احتجاج میں راستہ بند کرنا شرعاً ناجائز ہے البتہ کسی راستے کے کنارے پر اگر اس طرح بیٹھا جائے کہ عام راہگیروں کے لیے باعث تکلیف نہ بنے اور راستہ بھی کھلا رہے تو اس طرح احتجاج ریکارڈ کروانے کی گنجائش ہو سکتی ہے تاہم حکومتِ وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات کی بروقت شنوائی کرے تاکہ لوگ راستے بند کرنے پر مجبور نہ ہوں۔
وعن أبي جحيفة قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يشكو جاره قال : " اطرح متاعك على الطريق " . فطرحه فجعل الناس يمرون عليه ويلعنونه فجاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما لقيت من الناس ؟ قال : " وما لقيت منهم ؟ " . قال : يلعنوني . قال : " لعنك الله قبل الناس " . فقال : إني لا أعود . فجاء الذي شكاه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : " ارفع متاعك فقد كفيت رواه الطبراني والبزار بنحوه إلا أنه قال : " ضع متاعك على الطريق أي على ظهر الطريق " . فوضعه فكان كل من مر قال : ما شأنك ؟ قال : جاري يؤذيني . فيدعو عليه فجاء جاره فقال : رد متاعك فلا أؤذيك أبدا. (مجمع الزوائد، كتاب البر والصلة، باب ما جاء في أذي الجار، ج:8، ص:310)
حدثني سويد بن سعيد، حدثني حفص بن ميسرة، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إياكم والجلوس في الطرقات قالوا: يا رسول الله ما لنا بد من مجالسنا نتحدث فيها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فإذا أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه» قالوا: وما حقه؟، قال: غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر۔(صحيح مسلم، باب النهي عن الجلوس في الطرقات، حديث:2121)
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ , وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي، قالا: ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب , ثنا أحمد بن عبد الجبار , ثنا يونس بن بكير , عن ابن إسحاق قال: حدثني محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفذ , عن طلحة بن عبد الله بن عوف , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا ما أحب أن لي به حمر النعم، ولو أدعى به في الإسلام لأجبت " قال القتيبي فيما بلغني عنه: وكان سبب الحلف أن قريشا كانت تتظالم بالحرم، فقام عبد الله بن جدعان والزبير بن عبد المطلب فدعاهم إلى التحالف على التناصر، والأخذ للمظلوم من الظالم، فأجابهما بنو هاشم وبعض القبائل من قريش. قال الشيخ: قد سماهم ابن إسحاق بن يسار قال: بنو هاشم بن عبد مناف، وبنو المطلب بن عبد مناف، وبنو أسد بن عبد العزى بن قصي، وبنو زهرة بن كلاب، وبنو تيم بن مرة. قال القتيبي: فتحالفوا في دار عبد الله بن جدعان، فسموا ذلك الحلف حلف الفضول تشبيها له بحلف كان بمكة أيام جرهم على التناصف والأخذ للضعيف من القوي , وللغريب من القاطن، قام به رجال من جرهم يقال لهم: الفضل بن الحارث , والفضل بن وداعة , والفضل بن فضالة، فقيل حلف الفضول جمعا لأسماء هؤلاء. قال غير القتيبي في أسماء هؤلاء: فضل وفضال وفضيل وفضالة. قال القتيبي: والفضول جمع فضل، كما يقال: سعد وسعود، وزيد وزيود، والذي في حديث عبد الرحمن بن عوف حلف المطيبين. قال القتيبي: أحسبه أراد حلف الفضول؛ للحديث الآخر، ولأن المطيبين هم الذين عقدوا حلف الفضول. ( السنن الكبرى للبيهقي، كتاب قسم الفيء والغنيمة، باب السنة في كتبة أسامي أهل الفيء، ج:6، ص:596)
حدثنا أحمد بن خالد بن يزيد الفارسي ، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ، حدثنا عبد العزيز بن أبي ثابت ، حدثنا الزبير بن موسى ، عن أبي الحويرث ، قال : سمعت عبد الملك بن مروان ، يقول لقباث بن أشيم الكناني ثم الليثي : يا قباث أنت أكبر أم رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقال : رسول الله صلى الله عليه وسلم أكبر مني ، وأنا أسن منه ، ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل فجرى الأمر على ما قد ذكرناه قبل هذه الآثار ، فلم يزل على ذلك حتى قدم مكة رجل من زبيد بتجارة له ، فباعها من العاص بن وائل السهمي ، فمطله بها ، وغلبه عليها ، فحمله ذلك على أن أشرف على أبي قبيس ، حيث أخذت قريش مجالسها ، ثم أنشأ يقول : يا آل فهر لمظلوم بضاعته ببطن مكة نائي الأهل والنفر ومحرم أشعث لم يقض عمرته أمسى يناشد حول الحجر والحجر هل مخفر من بني سهم يقول لهم هل كان فينا حلالا مال معتمر إن الحرام لمن تمت حرامته ولا حرام لثوب الفاجر الغدر فلما سمعت قريش ذلك أعظمت ما عمل السهمي ، فتحالفوا عند ذلك حلف الفضول. ( مشكل الآثار للطحاوي، باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من قوله : شهدت مع عمومتي حلف المطيبين، ج:13، ص:181)
جواب سوال نمبر:2
حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ حقدار کو اس کا حق دلائے کیونکہ کسی کا حاکم ہونا اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ ما ل سمیٹے بلکہ حاکم کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم کی آہ اللہ تک پہنچ نہ پائے بلکہ اس سے پہلے اس کا مداوا کر لیا جائے ورنہ حدیث کے مطابق مظلوم کی آہ اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
لہذا کوئی بالادست حکمران ہو یا افسر اس سے اس کی رعایا سے متعلق سوال ہوگا جیسا کے حدیث میں رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے جس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اسی طرح حضرت عمر سے منسوب قول ہے فرمایا کہ: اگر فرات کے کنارے ایک بکری بھی بھوکی مر جائے تواندیشہ ہے کہ قیامت کے دن اس کے بارے میں مجھ سے اللہ تعالی پوچھے گا۔چنانچہ کسی فرد یا جماعت کے جائز مطالبات پورا کرنا اور ان کو ان کا حق دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں غفلت یا سستی پر ان سے پوچھ ہوگی۔
أن عبد الله بن عمر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته، الإمام راع ومسئول عن رعيته، والرجل راع في أهله وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية في بيت زوجها ومسئولة عن رعيتها، والخادم راع في مال سيده ومسئول عن رعيته قال: - وحسبت أن قد قال - والرجل راع في مال أبيه ومسئول عن رعيته، وكلكم راع ومسئول عن رعيته. ( صحيح البخاري، كتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، حديث نمبر:893)
وعن داود بن علي قال: قال عمر رضي الله عنه "لو ماتت شاة على شط الفرات ضائعة، لظننت أن اللّه عز وجل سائلي عنها يوم القيامة. (محض الصواب في فضائل أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ، ج:2، ص:621)
جواب سوال نمبر:3
اسلام ظلم و نا انصافی کا بدلہ لینے اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا ہے مگریہ بدلہ ان لوگوں سے لیا جائے گا جنھوں نے ظلم و جور کا ارتکاب کیا ہو تاہم وہ لوگ جن کا ظالم کے مذہب، نسل، وطن، خاندان یا پارٹی سے تعلق ہو مگر وہ اس ظلم میں نہ خود شریک ہوئے ہوں نہ انھوں نے معاونت کی ہو اور نہ انھوں نے منصوبہ سازی و پلاننگ میں حصہ لیا ہو تو ایسے بے قصور افراد سے صرف اس بنیاد پر بدلہ لینا کہ کہ وہ ظالم کے ہم مذہب یا ہم وطن یا پارٹی کے ہیں یہ سراسر اسلامی اصول و قوانین کے خلاف ہے اور یہ زمانہ جاہلیت کی عادت تھی کہ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا تو مقتول کےورثا قاتل کے قبیلہ وخاندان کے کسی بھی آدمی کو قتل کرکے اپنا بدلہ لیتے لیکن اسلام نے اس طریقہ کو ختم کر دیا۔ لہذا احتجاج کے دوران کسی بھی سرکاری املاک یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا جائز نہیں بصورت دیگر مظلوم بھی ظالم ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔
مظلوم كے ليے ظالم كے علاوه كسى ااور سے بدلہ لینے کا حق قطعا نہیں اور نہ ظالم سے اس طرح بدلہ لینے کی اجازت ہے جس سے یہ مظلوم خود ظالم بن جائے بلکہ جس قدر اس کا نقصان ہوا ہو اسی کے ضمان کا مطالبہ کرے گا۔
اگر احتجاج کے دوران کسی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا تاوان بالفعل نقصان کرنے والے پر ہوگا۔ احتجاج کے لیے کال دینے والے پر نہیں کیونکہ احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے حکم دینے والا نقصان کی لیے محض سبب کا درجہ رکھتا ہے جبکہ مباشر خود نقصان کرنے والا ہے اور مباشر و مسبب جہاں جمع ہو جائیں تو فعل کی نسبت مباشر کی طرف کی جائے گی اس لیے یہاں پر نقصان کرنے والے کی طرف نقصان کی نسبت کرتے ہوئے تاوان کا مطالبہ بھی اسی سے کیا جائے گا البتہ اگر کوئی احتجاج کرنے والوں کو نقصان پہنچانے پر اکسائے تو اس جرم کی تعزیری سزا کا مستحق ہوگا جو نوعیتِ جرم کے اعتبار سے حاکمِ وقت طے کر سکتا ہے۔
لأن الظلم حرام قطعي، ولا يتغير حكم ذلك بوجه ما، وعليه لا يباح للمظلوم أن يظلم غيره. (شرح المجلة، ج:2، ص: 618)
إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعدياً بما تلف بإلقاء غيره. (مجمع الضمانات، ج:1، ص:405)
یشترط شیئان: التعمد والتعدی لأن یکون التسبب موجباً للضمان علی ما ذکر آنفاً فی المادتین، یعنی ضمان المتسبب فی الضرر الناشیئ عن تسببه مشروط بعمله فعلاً مفضیاً إلی ذلك الضرر عمداً وبغیر حق، أی إذا کان قد استعمله عمداً وتعدیاً کان ضامناً. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام، ج:2، ص:617، المادة:924)
جواب سوال نمبر:4
اگر احتجاج والوں کے مطالبات جائز ہوں اور ان کی جانب سے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ ہوا ہو تواس صورت میں محض مظلوم کی آواز دبانے کے لیے ظلما ًاحتجاج رکوانا اور تشدد کرنا جائز نہیں خصوصا جبکہ احتجاج رکوانے میں مالی و جانی نقصان بھی ہوتا ہو البتہ احتجاج رکوانے کے لیے کوئی متبادل مؤثر طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں سے مذاکرات کی راہ سب سے بہتر ہے تاکہ مفاہمت سے بات نمٹا کر مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکے جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے صحابہ جہاد سے مشرکینِ مکہ کی ہٹ دھرمی کو نمٹانا چاہتے تھے اور واپسی کی خواہش نہ رکھتے تھےلیکن آپ نے مذاکرات سے اس وقت بات حل کر کے واپس ہوئے اور انھیں مذاکرات کے نتیجہ میں جو صلح ہوئی اسے قرآن میں فتح مبین کہا گیا چنانچہ بعد میں جا کر انھیں مذاکرات سے جو بات چل پڑی تھی بالآخر مکہ کی فتح کی شکل میں سامنے آئی اور بغیر کسی زائد مالی و جانی نقصان کے مکہ مکرمہ فتح ہوا۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن، فقال: اتق دعوة المظلوم، فإنها ليس بينها وبين الله حجاب. (صحيح البخاري، كتاب المظالم والغصب، باب الاتقاء والحذر من دعوة المظلوم، حديث:2448)
لأن الظلم حرام قطعي، ولا يتغير حكم ذلك بوجه ما، وعليه لا يباح للمظلوم أن يظلم غيره. (شرح المجلة، ج:2، ص: 618)
جواب سوال نمبر:5
اگر کوئی اپنا کاروبار وغیرہ کرتا ہو اور اپنے اختیار سے اپناکام موقوف کرتے ہوئے اپنے حق کے مطالبہ کے لیے جائز طریقے سے احتجاج ریکارڈ کراتا ہو تو جائز ہے لیکن اگر کسی ادارے کا ملازم اپنی حاضری متعلقہ ادارے میں یقینی بنانے کی بجائے احتجاج میں شرکت کرے اور پھر بعد میں تنخواہ بھی حاصل کرتا ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں نیز احتجاج میں اپنے ساتھ اور لوگوں کو زبردستی شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر احتجاج جائز مقاصد کے لیے ہو تو انھیں احتجاج میں شرکت کرنے کی محض ترغیب دی جا سکتی ہے ۔
والثاني وهوالأجیر الخاص ویسمی أجیر وحد وهو من یعمل لواحدٍ عملاً موقتاً بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة وإن لم یعمل کمن استؤجر شهراً للخدمة أو شهراً لرعي الغنم المسمی بأجر مسمی۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الاجارة، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:95)