بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رضاعی بھتیجی یا اس کی بہن سے نکاح کرنا


سوال

سمیرا نامی لڑکی نےوقاص کے بھائی(اسرار حسین) کی بیوی   کا دودھ پیا ہےتوکیا  اس صورت میں سمیرا کا نکاح  وقاص سے جائز ہے یا نہیں؟اگر سمیرا کا نکاح وقاص سے جائز نہیں تو  کیاسمیرا  کی دوسری بہن (جس نے اسرار حسین  کی بیوی کا دودھ نہیں پیا ہے) اس کا نکاح وقاص سے درست ہے یا نہیں؟

جواب

             شریعت مطہرہ کی رو سے جس طرح نسب سے رشتے حرام ہوتے ہیں اسی طرح رضاعت سے بھی رشتے حرام ہوتے ہیں۔ لہذا  جس طرح نسبی بھتیجی سے نکاح کرنا جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھتیجی  سے نکاح کرنابھی جائز نہیں ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی کے بارے میں فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ البتہ رضاعی بھتیجی کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے۔

            صورت مسؤلہ کیمطابق اگر مذکورہ صورت میں وقاص کی بھابھی (اسرار حسین کی بیوی)نے سمیرا کو دودھ پلایا ہوتو  سمیرا اسرارحسین کی رضاعی بیٹی اور وقاص کی رضاعی بھتیجی   بن چکی ہے،لہذا سمیراکے ساتھ وقاص کا نکاح جائز نہیں۔ البتہ سمیرا کی دوسری بہن (جس نے اسرار حسین  کی بیوی کا دودھ نہیں پیا ہے)  کے ساتھ وقاص کا نکاح  جائز ہے،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ»۔( سنن ترمذي، باب ما جاء يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، رقم: 1146 ج:3،ص:444)

عن ابن عباس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أريد على ابنة حمزة أن يتزوجهافقال: " إنها ابنة أخي من الرضاعة، فإنه يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب۔(مسند احمد، باب مسند عبدالله ابن عباس بن عبد المطلب، رقم الحديث : 3144،ج:5، ص:244)

ويجوز أن يتزوج أخت ابنه من الرضاع ولا يجوز ذلك من النسب " لأنه لما وطئ أمها حرمت عليه ولم يوجد هذا المعنى في الرضاع۔(الهداية،  باب ما يحرم بالرضاع، ج:1، ص:218)

 ولا يتعدى التحريم إلى أحد من قرابةالرضيع فليست أخته من الرضاعة أختا لأخيه ولا بنتا لأبيه إذ لارضاع بينهم. والحكمة في ذلك أن سبب التحريم ما ينفصل من أجزاءالمرأة وزوجها وهو اللبن، فإذا اغتذى به الرضيع صار جزءا من أجزائهما فانتشر التحريم بينهم، بخلاف قرابات الرضيع لأنه ليس بينهم وبين المرضعة ولا زوجها نسب ولا سبب انتهى.( تحفة الأحوذي لمحمد المباركفور، باب ما جاء يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب،ج:4، ص:254)


فتویٰ نمبر : 6464/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور