بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مشترکہ خاندان میں زکوۃ
سوال
اگر باپ اور بیٹے مشترکہ طور پرایک گھر میں رہتے ہوں اور ان کی مال وجائیداد بھی ہو لیکن مال وجائیداد سب کچھ پر ان کے باپ کا قبضہ ہے تو بیٹوں کے لیے زکوۃ لینا کیسا ہے؟نیز وجوب قربانی اور صدقہ فطر کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر باپ اور بیٹے ایک گھر میں مشترکہ طور پر رہ رہے ہوں اور ان کی مال و جائیداد بھی ہو لیکن تمام جائیداد پر باپ کی ملکیت میں ہواور اولاد کے ساتھ اتنا ذاتی ما ل نہ ہو جو نصاب تک پہنچتا ہوں تو اولاد پر زکوۃ اور قربانی واجب نہیں اور زکوۃ و صدقہ فطر بھی لے سکتے ہیں ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی باپ بیٹے مشترکہ طور پر ایک گھر میں رہ رہےہو ں اور تمام مال و جائیداد باپ کے پاس ہو اور بیٹوں کے پاس ذاتی ملکیت میں اتنے پیسے نہ ہو ں جو زکوۃ کے نصاب تک پہنچ جائیں تو اس صورت میں بیٹوں پر زکوۃ اور قربانی واجب نہیں اور صدقہ فطر بھی لینے میں کو ئی حرج نہیں ۔
لما في قنينة الأب وابنه يكتسبان في صنعةواحده و لم يكن لهما شيء فا لكسب كله للأب إن كا الابن في عياله لكونه معينا له۔(الدر المختار علی صدر ردالمحتار،كتاب الشركة،مطلب:اجتمعا في دار واحدة واكتسبا۔۔۔ج:5،ص:502)
(وأماشرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة۔۔۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔(الفتاوي الهندية،كتاب الأضحية،الباب الأول،ج:5،ص:292)