بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
لڑکی کے والد کا لڑکے سے قبل از نکاح کچھ رقم کا مطالبہ کرنا
سوال
بعض علاقوں میں یہ مذموم رسم رائج ہے کہ جب بھی کہیں رشتہ کی بات ہوتی ہے تو لڑکی کا ولی لڑکے سے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے جو کہ عموما بڑی رقم ہوتی ہے، پھر اس رقم سے بعض اولیا تو لڑکی کے لیے سامانِ ضرورت خرید کر لڑکی کے ساتھ جہیز میں بھیج دیتے ہیں جبکہ بعض لوگ ان پیسوں میں سے اکثر ایک تہائی اپنے لیے بھی رکھتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ نکاح سے قبل اس طرح کی رقم متعین کر کے مہر ٹھرانا شرعا کیسا ہے؟ اگر ناجائز ہو تو ایسے پیسوں کو لینے والا لڑکے کو واپس کرنے کا پابند ہوگا یا لڑکی کو ہدیہ کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر رقم دہندہ ہی موجود نہ ہو تو رقم کسے لوٹائی جائے نیز واپسی کی صورت میں دورِ حاضر کا اعتبار ہوگا یا جس رقم پر معاہدہ ہوا تھا اس کا یعنے روپے کی قدر زیادہ ہوجانے کے لحاظ سے؟
جواب
واضح رہے کہ نکاح صرف طبعی خواہش کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ایک عبادت بھی ہے اس لیے اس میں شرعی اصول کی پاسداری نہایت ضروری ہے اور کسی ناجائز رسم و رواج کی بنا پر اس کو شریعت کے اصول سے متصادم بنانا درست نہیں۔مثلا نکاح کے بدلے لڑکے کے والدین سے مہر کے علاوہ اپنے لیے اضافی رقم کا مطالبہ ایک ناجائز عمل ہے۔ عموما ایسی صورت میں لڑکا یا اس کے والدین مجبور ہوکر بادلِ نا خواستہ رقم ادا کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر معاشرے میں کوئی اس کو رشتہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتابعض لوگ اس آمدنی کو مہر کا نام دے کر دوسرے کے مال کو ہڑپ کرنے کے لیے حیلہ کرتے ہیں کہ یہ مہر ہے اور بیٹی کی رضامندی سے ہمارے لیے اس کا استعمال جائز ہےجبکہ حقیقت میں یہ ایک نام کا حیلہ ہے جس سے مقصود رقم کا حصول ہے نہ کہ مہر کا تقرر، فقہائے کرام نے اسے رشوت قرار دیا ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔ تاہم اگر لڑکی کے والدین مہر کے طور پر رقم مقرر کر کے نکاح کے بعد رخصتی سے قبل وہ رقم وصول کریں اور اس رقم سے لڑکی کی اجازت سے اس کے لیے جہیز وغیرہ کا سامان خرید لیں تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
صورتِ مسئو لہ میں مذکورہ رقم اگر نکاح سے پہلے رضامندی ظاہر کرنے کی غرض سے لیے جاتے ہوں تو ان کا دینا اور لینا جائز نہیں اور اگر کسی نے بامر ِ مجبوری دے دیے ہوں تو لینے والے پر اس کی واپسی لازمی ہے لیکن دینے والا اگر موجود نہ ہو تو اس کے ورثا کو ادا کرنا لازمی ہے ۔
وعن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة. رواهما البيهقي في شعب الإيمان.(مشكاة المصابيح،كتاب النكاح،ج:2،ص:202)
(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة. (قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب النكاح،مطلب في دعوى الاب ان الجهاز عارية،ج:4،ص:307)
الرشوة لا تملك بالقبض.(الدر المختار،كتاب الحظر والاباحة،ج:9،ص:607)