بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
زانی کے بیٹے کا مزنیہ کی بہن سے نکاح کرنا
سوال
اگر کوئی شخص اپنی بھتیجی کے ساتھ زنا کرے بعد میں وہ شخص اپنے بیٹے کا نکاح اس مزنیہ کی بہن سے کرانا چاہتاہے تو شرعا یہ نکاح جائز ہو گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ حرمت مصاہرت کی وجہ سےزانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں ،اس کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ نکاح کرنا یا اپنی اولاد کا نکاح کرانا شرعاجائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی بھتیجی کے ساتھ زنا کیا ہواور اب وہ اپنے بیٹے کا نکاح مزنیہ کی بہن سے کرانا چاہتا ہے تو شرعا یہ نکاح جائز ہے ۔
(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قلبه۔ ۔ ۔( الدرالمختار علی صدر ردالمحتار،کتاب النکاح، فصل في المحرمات،ج3،ص107)
ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها۔(البحرالرائق،كتاب النكاح، فصل في المحرمات،ج3،ص179)