بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قرض دار سے پاکستانی کرنسی کے بدلے میں افغانی کرنسی وصول کرنا


سوال

 افغانستان کے بعض صوبوں میں کسی وقت میں پاکستانی کرنسی سے لین دین کیا جاتا تھا  پھر علاقہ کے گورنر کی طرف سے اعلان ہوا کہ  آج کے بعد کوئی بھی   پاکستانی روپیہ  میں لین دین نہیں  کرے گا لہذا  اگر کسی کا کسی کے ذمے قرض ہو تو افغانی میں وصول کر لے۔ اعلان کے وقت دو پاکستانی  روپےکے بدلے میں ایک افغانی روپیہ  ریٹ تھا جبکہ ابھی   تقریبا تین پاکستانی ایک افغانی کے برابر ہے۔ ان دنوں میں جب قرض خواہوں کا   اپنے قرض داروں سے رابطہ ہوا تو تقریبا سب نے بات مان لی جبکہ ادائیگی نہیں ہوئی تھی  ۔ اب جن سے رابطہ نہ ہوا تھا  وہ  قرض دار اور جن سے رابطہ ہوا تھا لیکن ادائیگی نہ ہوئی تھی وہ قرض دار جب قرضہ ادا کرنا چاہیں تو ادائیگی کے  دن کی پاکستانی کرنسی کی قیمت  کا اعتبار کریں گےیا گورنر کے اعلان کے دن پاکستانی کرنسی کی   جو قیمت تھی اس کا اعتبار کریں گے؟

جواب

          شریعتِ مطہرہ کی رو سے قرض خواہ کرنسی کی اس جنس کا مطالبہ کر سکتا ہے جو قرضدار کے ذمہ ہو  تاہم اگر دونوں باہمی رضامندی سے اس کرنسی  کی جگہ جو قرضدار کے ذمے ہے، کسی  اور کرنسی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہیں  تو کر سکتے ہیں  لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ دوسری کرنسی  ادائیگی والے دن ہی کے ریٹ کے بقدر دی جائےنیز   اسی مجلس میں دوسری کرنسی پر قبضہ بھی ہو جائے۔

                صورتِ مسئولہ میں  پاکستانی قرض کرنسی کے بدلے میں افغانی کرنسی وصول کرنا جائز ہے لیکن اس شرط پر کہ ادائیگی والے دن پاکستانی کرنسی کا جو ریٹ ہو افغانی میں اسی کے مطابق ادائیگی  ہو  اور اسی  مجلس میں قبضہ بھی ہو جائے۔

 

حدثنا موسى بن إسماعيل، ومحمد بن محبوب، المعنى واحد، قالا: حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال: كنت أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو في بيت حفصة فقلت: يا رسول الله، رويدك أسألك إني أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم، وآخذ الدنانير آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء. (سنن أبي داود، كتاب البيوع، باب في اقتضاء الذهب من الورق، ج:3، ص:250)

(وإلا) بأن لم يتجانسا(شرط التقابض) لحرمة النساء (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح، و) العوضان (لا يتعينان) حتى لو استقرضا فأديا قبل افتراقهما أو أمسكا ما أشار إليه في العقد وأديا مثلهما جاز.(ويفسد) الصرف (بخيار الشرط والأجل) لإخلالهما بالقبض . (الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:258۔259)

وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:7، ص:390)


فتویٰ نمبر : 3062/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور