بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فوریکس ٹریڈنگ کاحکم


سوال

فوریکس ٹریڈنگ (Forex Trading)  کے نام سے ایک ایپلیکیشن ہے جس میں ایک دیئے گئے وقت میں کچھ  لینا یا بیچنا ہوتا ہے، پھر اس میں نفع یا نقصان آتا ہے۔ کیا اس طرح پیسے کمانا جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

           خرید و فروخت کے معاملات میں شرط یہ ہے کہ جن اشیاء کی خرید وفروخت  ہو رہی ہو معاملہ طے پاتے وقت ان کا وجود قطعی ویقینی ہو اور ان کی معدومیت (ناپیدگی) کا کوئی شائبہ نہ ہو ،  مبیع معلوم و متعین ہواور مبیع  آگے فروخت کرنے سے پہلے اس مبیع کو باقاعدہ   قبض کر کے اپنے ضمان اور تحویل میں لیا جائے   اور  اگر خریدی ہوئی چیز مشاع (مشترک غیر منقسم) ہو تو اس میں باقاعدہ افراز یعنی حصص کی علیحدگی اور تعیین لازم ہے بصورت دیگر بیع ناجائز  متصور ہوگی نیز یہ کہ مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہمی تبادلہ  میں شرط یہ ہے کہ مجلس عقد میں احد البدلین(دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ہو جائے   چنانچہ دونوں میں  سے کسی ایک پر بھی اگر قبضہ نہ ہو تو  بیع ناجائز ہوگی۔ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ ہونے والی بیوعات میں درج ذیل  قباحتیں پائی جاتی ہیں :

(1) فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ جن اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے ان کا وجود قطعی اور یقینی نہیں ہوتا  ، خریدار جو چیز خریدتا ہے اسے کوئی علم نہیں ہوتا کہ وہ چیز حقیقت میں فروخت کنندہ کے پاس موجود ہے یا نہیں  اگر موجود ہے تو کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہے چونکہ خریدار کا مقصد اشیاء خریدنا نہیں ہوتا بلکہ   خرید و فروخت کے مابین کا نفع و نقصان برابر کرنا ہوتا ہے اس لئے  خریدار  اشیاء کے موجود ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا  جبکہ شرعاً ان کاموجود ہونا ضروری ہےلہذا فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کئے جانے والے معاملات میں بیع معدوم کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔

 (2) مالی معاملات میں جہاں کہیں اشیاء یا خدمات کا حقیقی وجود نہ ہو اور محض کسی فرضی چیز کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جائے تو یہ قمار (سٹہ) کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ٹھرتا ہے اسی طرح جس معاملہ میں نفع و نقصان کا مدار کسی موہوم اور متردد واقعہ پر ہو وہ بھی قمار میں داخل ہے۔ فاریکس کا بھی یہی معاملہ ہے کہ یہاں کسی غیر یقینی اور فرضی مبیع کا نام لیکر سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور نفع و نقصان کا مدار قیمتوں کے اتار چڑھاؤ  پر ہوتا ہے جو ایک موہوم اور متردد صورتحال ہے اس لئے اس کاروبار میں  قمار کی بھی  روح کار فرما ہے جو نص صریحی سے حرام ہے۔

(3) فاریکس  ٹریڈنگ میں  عموما مبیع موجود نہیں ہوتا تاہم  اگر فاریکس  ٹڑیڈنگ کے ذریعے کوئی ایسی چیز خریدی جائے جس کا حقیقی وجود  ہو تو خریدار  کا آگے فروخت کرنے سے پہلے اس پر قبضہ ضروری ہے اور قبضہ کے لئے اس چیز کا افراز (یعنی مجموعہ اشیاء سے فروخت کردہ چیز کو علیحدہ کرنا ) اور خریدار کے ضمان میں آنا ضروری ہے  چونکہ عموما لوگ فاریکس میں بیع و شراء صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ  کے ذریعہ نفع اٹھانے کے لئے کرتےہیں   ان کا مقصد مبیع  کا حصول نہیں ہوتا اسی وجہ  سے بغیر قبضہ کئے آگے فروخت کردیتے ہیں لہذا یہ فاریکس ٹریڈنگ بیع قبل القبض کی قباحت سے بھی خالی نہیں  اور بیع قبل القبض ناجائز ہے۔

 (4) مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہم تبادلہ کے وقت مجلس عقد میں احد البدلین(دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ضروری ہے ورنہ عقد "بیع الکالی بالکالی" کے زمرہ میں داخل ہو کر  ناجائز ہوتا ہے ، فاریکس ٹریڈنگ میں  جب کرنسی خریدی جاتی ہے تو کسی جانب سے بھی پورا قبضہ نہیں ہوتا اس لئے یہ بھی ناجائز ہے۔

الغرض: فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ  کاروبار قمار (سٹہ) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلےمبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کا قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے  اور اس میں سرمایہ  کاری شرعا جائز نہیں اس لئے مسلمانوں پر اس سے احتراز لازم ہے۔

 

قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(المائده:90)

قال الشيخ ابن كثير فى تفسيره تحت هذة الآية: يقول تعالى ناهيًا عباده المؤمنين عن تعاطي الخمر والميسر، وهو القمار ، وقال الضحاك، عن ابن عباس قال: الميسر هو القمار، كانوا يتقامرون في الجاهلية إلى مجيء الإسلام، فنهاهم الله عن هذه الأخلاق القبيحة. (تفسير ابن كثير)

وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم۔  (رد المحتار،كتاب البيوع،مطلب شرائط البيع انواع اربعة، ج:4، ص:505)

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة۔ (الدر المختار، فرع، ج:4،ص:561)

وحاصله أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة ۔۔۔۔ قوله(بلا مانع) بأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره۔  (الردالمحتار،مطلب فى شروط التخلية،ج:4، ص:562)

ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد۔  (المبسوط للسرخسي،الجزء الرابع عشر،ج:14، ص:4)


فتویٰ نمبر : 3061/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور