بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بندوں کے مختلف قسم کے حقوق کی تلافی
سوال
اگر کسی نے ماضی میں حقوق العباد کے معاملے میں بہت غفلت برتی ہوجس کی وجہ سے بہت سے معاملات خراب ہو چکے ہوں اور اب تلافی کرنی ہو تو اس سے متعلق چند سوالات سے آگاہ فرمائیں۔1۔ اگر کسی سے کتب وغیرہ لی ہوں اور اب وہ پھٹ گئی ہوں تو کیا اس کو جاز کیش کے ذریعے سے اس مقدار کے برابر رقم بھیجی جا سکتی ہے جبکہ بتانے سے فساد کا اندیشہ بھی ہو؟ 2۔ اگر ادھار لیے تھے تو کیا ان کو منی آرڈر سے رقم بھیج سکتا ہوں کیونکہ بتانے میں فساد کا اندیشہ ہے۔ 3۔جن کی غیبت کی ہو یا دل دکھایاہو اس کی تلافی کیسے ہو جبکہ کچھ بندے بھول بھی گئے ہیں؟ اسی طرح اگر کھلم کھلا معافی مانگی جائے تو بات اور بگڑ سکتی ہے اس میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے؟ 4۔اگر بچوں کو تعلیم دیتے ہوئے مارا پیٹا ہو تو اس کی تلافی کیسے کی جائے؟
جواب
واضح رہے کہ عاریت پر لی ہوئی چیز لینے والے کے پاس امانت ہوتی ہے اور امانت کی حفاظت میں کوتاہی کرنے کی صورت میں امانت دار نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے البتہ عام استعمال سے عاریت کی چیز میں اگر کوئی نقص پیدا ہو جائے اور وہ چیز بدستور قابل استعمال ہو تو اس کا ضمان نہ ہوگا اور عین شیء مستعار کو واپس کرنا لازمی ہوگا۔ صورت مسئولہ میں اگر عاریت پر لی ہوئی کتاب میں اگر تعدی کے بغیر محض استعمال سے کوئی خرابی پیدا ہوئی ہو تو اس کا تاوان نہیں اور کتاب ہی کوواپس کرنا لازم ہوگا البتہ اگر لینے والے کی غفلت سے کوئی نقص پیدا ہوا ہو جس سے وہ کتاب قابل استعمال نہ رہی ہو تو اس کی قیمت تاوان کے طور پر ادا کرنا لازمی ہوگی اور یہ قیمت مالک کو پہنچانے سے ذمہ فارغ ہو جائے گا اگر چہ اس کو خبر نہ دی گئی ہو۔
قرض دار کے ذمہ قرض کی ادائیگی لازم ہوتی ہے اور قرض خواہ کو قرضہ پہنچانے پر قرض دار کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے ، قرض دار کا ذمہ فارغ ہونے کے لیے قرض خواہ کو خبر دینا ضروی نہیں۔ صورت مسئولہ میں قرض خواہوں کو پیسے ارسال کرنے سے جبکہ انھیں وصول بھی ہو جائیں قرض دار کا ذمہ فارغ ہو جائے گا۔
مسلمان کی غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی عزت پر حرف گیری کرنے کو بدترین سود قرار دیا ہے، نیز غیبت کو زنا سے بھی بدتر فرمایا گیا ہے۔ اس گناہ کی بہت سی وعیدیں احادیثِ مبارکہ میں موجود ہیں، اور عقلی طور پر بھی کسی کی برائی وبدخواہی، اور اس کی تحقیر جائز نہیں ہے، اور غیبت میں یہ سب برائیاں پائی جاتی ہیں.غیبت کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے کے ساتھ جس کی غیبت یا برائی کی ہے اس بندے سے معافی مانگ لی جائے؛ کیوں کہ اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے، ہاں یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کو پورا معاملہ بتایا جائے، بس عمومی انداز میں کہہ دیا جائے کہ اگر کبھی آپ کی حق تلفی ہوئی ہو تو آپ معاف کردیں یا کوئی اور انداز اختیار کرلیا جائے، الغرض دنیا میں اس سے معاف کروالیں، اگر اس سے ملنا مشکل ہو تو اللہ سے معافی مانگنے کے ساتھ اس کے حق میں کثرت سے استغفار کریں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔
تربيت كی خاطر شاگردوں کی پٹائی ان کے والدین کی اجازت سے جائز ہے جبکہ مار پٹائی میں شاگرد پراپنا غصہ نکالنا مقصود نہ ہو بلکہ محض شاگرد کی تربیت کے لیے اسے مارا جائے نیز نابالغ بچوں کو ناحق مارنے کے بعد حق العبد ہونے کی وجہ سے بعد از بلوغ ان سے معافی مانگنے سے معافی ہو جائی گی البتہ کسی کی معلومات نہ ہونے کی صورت میں یا معافی مانگنے میں اگر فساد کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں محض اللہ کے دربار میں استغفار كرنے سے اميد ہے کہ تلافی ہو جائے۔
(وضعها) أي العارية (بين يديه فنام فضاعت لم يضمن لو نام جالسا) لأنه لا يعد مضيعا لها (وضمن لو نام مضطجعا) لتركه الحفظ. (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب العارية، ج:5، ص:684)
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى. (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب اللقطه، ج:4، ص:283)
عَنْ أَنَسٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ كَفَّارَةِ الْغِيبَةِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِمَنِ اغْتَبْتَهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ". (مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 4877)
"وإذا لم تبلغه يكفيه الندم وإلا شرط بيان كل ما اغتابه به". (قوله: وإذا لم تبلغه إلخ) ليس هذا من الحديث، بل كلام مستأنف. قال بعض العلماء: إذا تاب المغتاب قبل وصولها تنفعه توبته بلا استحلال من صاحبه فإن بلغت إليه بعد توبته قيل: لاتبطل توبته، بل يغفر الله تعالى لهما جميعا للأول بالتوبة وللثاني لما لحقه من المشقة، وقيل بل توبته معلقة فإن مات الثاني قبل بلوغها إليه فتوبته صحيحة، وإن بلغته فلا بل لا بد من الاستحلال والاستغفار، ولو قال بهتانا فلا بد أيضا أن يرجع إلى من تكلم عندهم ويكذب نفسه وتمامه في تبيين المحارم (قوله: وإلا شرط بيان كل ما اغتابه به) أي مع الاستغفار والتوبة والمراد أن يبين له ذلك ويعتذر إليه ليسمح عنه بأن يبالغ في الثناء عليه والتودد إليه ويلازم ذلك حتى يطيب قلبه، وإن لم يطب قلبه كان اعتذاره وتودده حسنة يقابل بها سيئة الغيبة في الآخرة وعليه أن يخلص في الاعتذار، وإلا فهو ذنب آخر ويحتمل أن يبقى لخصمه عليه مطالبة في الآخرة، لأنه لو علم أنه غير مخلص لما رضي به. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:410)
"قال الفقيه: إذا أراد المعلم أن ينال الثواب ويكون عمله عمل الأنبياء فعليه أن يحفظ خمسة أشياء... و الخامس أن لايضرب الصبيان ضربًا مبرحًا ولايجاوز الحد؛ فإنه يحاسب يوم القيامة". (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثلاثون، ج:5، ص:379)
"لايجوز ضرب ولد الحر بأمر أبيه، أما المعلم فله ضربه لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب لمصلحته، والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه لمصلحة التعليم، وقيده الطرسوسي بأن يكون بغير آلة جارحة، وبأن لايزيد على ثلاث ضربات ورده الناظم بأنه لا وجه له، ويحتاج إلى نقل وأقره الشارح قال الشرنبلالي: والنقل في كتاب الصلاة يضرب الصغير باليد لا بالخشبة، ولايزيد على ثلاث ضربات". (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ج:6، ص:430)